القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 243

۲۴۳ وَاللَّهِ إِنِّي لَا أُرِيدُ اِمَامَةً هَذَا خَيَالُكَ مِنْ طَرِيقِ خَطَا خدا کی قسم! میرا امام بنے کا خود کوئی ارادہ نہیں۔تیرا یہ خیال غلطی سے پیدا ہوا ہے۔إِنَّا نُرِيدُ اللَّهَ رَاحَةَ رُوحِنَا لَا سُودَدًا وَّرِيَاسَةً وَعَلَاءِ بے شک ہم تو صرف اللہ کو چاہتے ہیں جو ہماری روح کی راحت ہے۔ہم کسی سرداری ریاست اور غلبہ کو نہیں چاہتے۔إِنَّا تَوَكَّلْنَا عَلَى خَلاقِنَا مُعْطِي الْجَزِيلِ وَ وَاهِبِ النَّعْمَاءِ ہم نے اپنے پیدا کرنے والے پر تو کل کیا ہے جو بہت دینے والا اور نعمت کا عطا کرنے والا ہے۔مَنْ كَانَ لِلرَّحْمَنِ كَانَ مُكَرَّمًا لَازَالَ أَهْلَ الْمَجُدِ وَالا لاءِ جو خدا کا ہو گیا وہ بزرگ بن جاتا ہے اور وہ ہمیشہ بزرگی اور نعمتوں والا بنا رہتا ہے۔إِنَّ الْعِدًا يُؤْذُونَنِي بِخَبَاثَةٍ يُوذُونَ بِالْبُهْتَانِ قَلْبَ بَرَاءِ بے شک دشمن خباثت سے مجھے تکلیفیں دے رہے ہیں وہ بہتان لگا کر ایک بے گناہ انسان کے دل کو ایذا پہنچارہے ہیں۔هُمْ يُدْعِرُوْنَ بِصَيْحَةٍ وَنَعُدُّهُمْ فِي زُمُرِ مَوْتَى لَا مِنَ الْأَحْيَاءِ وہ چیخ و چلا کر ( ہمیں ڈراتے ہیں حالانکہ ہم انہیں مردوں کے زمرہ میں شمار کرتے ہیں نہ کہ زندوں میں۔كَيْفَ التَّخَوُّفٌ بَعْدَ قُرُبِ مُشَجَعٍ مِنْ هَذِهِ الْأَصْوَاتِ وَالضَّوْضَاءِ جرات عطا کرنے والے (خدا) کے قرب کے بعد ان آوازوں اور شور و غوغا سے ڈر کیسے پیدا ہوسکتا ہے؟ يَسْعَى الْخَبِيتُ لِيُطْفِتَنُ اَنْوَارَنَا وَالشَّمْسُ لَا تَخْفَى مِنَ الْإِخْفَاءِ خبیث کوشش کرتا ہے کہ ہمارے انوار کو بجھا دے اور آفتاب تو چھپانے سے چھپ نہیں سکتا۔إِنَّ الْمُهَيْمِنَ قَدْ اَتَمَّ نَوَالَهُ فَضْلًا عَلَيَّ فَصِرْتُ مِنْ نُحَلَاءِ بے شک خدائے نگہبان نے اپنی بخشش کو کمال تک پہنچا دیا ہے مجھ پر فضل کرتے ہوئے پس میں بخشش کرنے والوں میں سے ہو گیا۔نُعْطِي الْعُلُوْمَ لِدَفْعِ مَتْرَبَةِ الْوَرى طَالَتْ آيَادِيْنَا عَلَى الْفُقَرَاءِ مخلوق کی تنگ دستی دور کرنے کے لئے ہم علوم کا مال عطا کرتے ہیں اور محتاجوں پر ہمارے احسانات بہت زیادہ ہو گئے ہیں۔