القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 242

۲۴۲ خَلُّوْا مَقَامَ الْمَوْلَوِيَّةِ بَعْدَهُ وَتَسَتَّرُوا فِي غَيْهَبِ الْخَوْقَاءِ اب اس کے بعد مولویت کا مقام چھوڑ دو اور اندھے کنوئیں کی تاریکی میں چھپ جاؤ۔قَدْ حُدِّدَتْ كَالْمُرْهَفَاتِ قَرِيحَتِى فَفَهِمْتُ مَالًا فَهِمَهُ أَعْدَائِى میری طبیعت تلواروں کی طرح تیز کر دی گئی ہے پس میں وہ چیز سمجھا ہوں جس کو میرے دشمن نہیں سمجھے۔هذَا كِتَابِي حَازَ كُلَّ بَلَاغَةٍ بَهَرَ الْعُقُوْلَ بِنَضْرَةٍ وَبَهَاءِ یہ میری کتاب ہے جس نے ہر قسم کی بلاغت کو اپنے اندر جمع کر لیا ہے اور اس نے تازگی اور خوبی سے عقلوں کو حیران کر دیا ہے۔اللَّهُ أَعْطَانِى حَدَائِقَ عِلْمِهِ لَوْلَا الْعِنَايَةُ كُنْتُ كَالسُّفَهَاءِ اللہ نے مجھے اپنے علم کے باغ عطا فرمائے ہیں۔اگر اللہ کی عنایت نہ ہوتی تو میں بھی بے وقوفوں کی طرح ہوتا۔إِنِّي دَعَوْتُ اللهَ رَبَّا مُحْسِنًا فَارَى عُيُونَ الْعِلْمِ بَعْدَ دُعَائِي میں نے اپنے اللہ رب محسن سے درخواست کی تو میری دعا کے بعد اس نے ( مجھے ) علم کے چشمے دکھا دیئے۔إِنَّ الْمُهَيْمِنَ لا يُعِزُّ بِنَخْوَةٍ إِنْ رُمْتَ دَرَجَاتِ فَكُنْ كَعَفَاءِ بے شک خدائے نگہبان تکبر پر عزت نہیں دیتا۔اگر تو درجات حاصل کرنا چاہتا ہے تو خاک کی طرح ہو جا۔وَاللَّهِ قَدْ فَرَّطْتَ فِي أَمْرِى هَوًى وَاَبَيْتَ كَالْمُسْتَعْجِلِ الْخَطَّاءِ خدا کی قسم ! تو نے ہوا و ہوس کی وجہ سے میرے معاملے میں کوتاہی کی ہے اور جلد بازخطا کار کی طرح انکار کر دیا ہے۔اَلْحُرُّ لَا يَسْتَعْجِلَنْ بَلْ إِنَّهُ يَرْنُو بِامْعَانٍ وَّكَشْفِ غِطَاءِ تعصب سے آزاد (انسان) جلد بازی نہیں کیا کرتا وہ گہری نظر سے اور پردہ اٹھا کر دیکھتا ہے۔يَخْشَى الْكِرَامُ دُعَاءَ اَهْلِ كَرَامَةٍ رُحْمًا عَلَى الْأَزْوَاجِ وَالْأَبْنَاءِ شرفا اہل کرامت کی دعا سے اپنے بیوی بچوں پر رحم کرتے ہوئے ڈرتے ہیں۔عِنْدِي دُعَاء خَاطِفٌ كَصَوَاعِقِ فَحَدَ ارِثُم حَذَارِ مِنْ أَرْجَانِى میری دعا ایسا تیر ہے جو بجلیوں کی طرح تیزی سے اپنے نشانے پر جا لگتا ہے (پس مخالفانہ طور پر ) میرے قریب آنے سے بچو اور پھر بچو۔