القصائد الاحمدیہ — Page 237
۲۳۷ شَهِدَتْ عَلَيْهِ خَصِيمُ سُنَّةُ رَبِّنَا فِي الْأَنْبِيَاءِ وَ زُمْرَةِ الصُّلَحَاءِ اے مخاصم ! اسی امر پر ہمارے رب کی سنت گواہ ہے جو انبیاء اور صلحاء کے گروہ میں (جاری) ہے۔مُتُ بِالتَّغَيُّظِ وَاللَّظى يَا حَاسِدِي إِنَّا نَمُوتُ بِعِزَّةٍ قَعْسَاءِ اے میرے حاسد! تو غضب اور آگ کی لپٹ سے مرجا ہم تو قائم و دائم عزت کے ساتھ مریں گے۔إِنَّا نَرى كُلَّ الْعُلَى مِنْ رَّبِّنَا وَالْخَلْقُ يَأْتِينَا لِبَغْيِ ضِيَاءِ ہم تو یہی پاتے ہیں کہ تمام بلندیاں ہمارے رب سے ہی ملتی ہیں اور مخلوق روشنی کی طلب میں ہمارے پاس آتی ہے۔هُمْ يَذْكُرُونَكَ لَاعِنِيْنَ وَذِكْرُنَا فِي الصَّالِحَاتِ يُعَدُّ بَعْدَ فَنَاءِ اے حاسد ) لوگ تیر اذ کر تو لعنت سے کریں گے اور نیک کاموں کے بارے میں ہمارا ذ کر فنا کے بعد بھی ہوتا رہے گا۔هَلْ تَهْدِمَنَّ الْقَصْرَ قَصْرَ الهِنَا هَلْ تُحْرِقَنُ مَّا صَنَعَهُ بَنَّائِي کیا تو اس محل کو گرا دے گا جو ہمارے معبود کا عمل ہے؟ کیا تو اس چیز کو جلا ڈالے گا جسے میرے معمار (اللہ تعالیٰ) نے بنایا ہے؟ يَرْجُونَ عَشْرَةَ جَدْنَا حُسَدَانُنَا وَنَذُوقَ نَعْمَاء عَلَى نَعْمَاءِ ہمارے حاسد چاہتے ہیں کہ ہمارا نصیب جاتا رہے حالانکہ ہم نعمت پر نعمت چکھ رہے ہیں۔لَا تَحْسَبَنُ أَمْرِى كَامْرٍ غُمَّةٍ جَاءَتْ لَكَ الْآيَاتُ مِثْلَ ذُكَاءِ میرے کام کو مشتبہ کام کی طرح نہ جان۔تیرے پاس تو سورج کی طرح روشن نشان آچکے ہیں۔جَاءَتْ خِيَارُ النَّاسِ شَوْقًا بَعْدَمَا شَمُّوا رِيَاحَ الْمِسْكِ مِنْ تِلْقَائِى نیک آدمی میرے پاس شوق سے آئے ہیں بعد اس کے کہ میری جانب سے انہوں نے کستوری کی خوشبو سونگھی۔طَارُوا إِلَيَّ بِالْفَةٍ وَّارَادَةٍ كَالطَّيْرِاذْ يَأْوِى إِلَى الدَّفَوَاءِ وہ میری طرف الفت اور ارادت سے پرواز کر کے آئے اس پرندے کی طرح جو بڑے درخت پر پناہ لیتا ہے۔لَفَظَتْ إِلَيَّ بِلادُنَا وَكُبَادَهَا مَابَقِيَ إِلا فَضْلَةُ الْفُضَلَاءِ ہمارے ملک نے ہماری طرف اپنے جگر گوشوں کو پھینک دیا ہے اوراب فاضلوں میں سے صرف بچے کھچے ہی باقی رہ گئے ہیں۔