القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 236 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 236

۲۳۶ هذَا إِرَادَتُكَ الْقَدِيمَةُ مِنْ هَوَى وَاللَّهُ كَهْفِي مُهْلِكُ الْأَعْدَاءِ یہ حرص و ہوا کی وجہ سے تیرا پرانا ارادہ ہے اور اللہ میری پناہ ہے جو دشمنوں کو ہلاک کرنے والا ہے۔إِنِّي لَشَرُّ النَّاسِ اِنْ لَّمْ يَأْتِنِى نَصْرٌ مِّنَ الرَّحْمَنِ لِلاعْلَاءِ میں بدترین مخلوق ہوں گا اگر خدائے رحمان کی مدد مجھے غالب کرنے کے لئے نہ آئے۔مَا كَانَ أَمْرٌ فِي يَدَيْكَ وَإِنَّهُ رَبِّ قَدِيرٌ حَافِظُ الضُّعَفَاءِ تیرے ہاتھ میں تو کوئی اختیار نہیں اور خدا کی یہ شان ہے کہ وہ رب قدیر اور کمزوروں کا محافظ ہے۔الْكِبْرُ قَدْ الْقَاكَ فِي دَرُكِ اللَّظى إِنَّ التَّكَبُرَ اَرْدَءُ الأَشْيَ تکبر نے تجھے دوزخ کے نچلے طبقہ میں ڈال دیا ہے۔یقینا تکبر ہر ایک چیز سے بدتر ہے۔خَفْ قَهُرَ رَبِّ ذِي الْجَلَالِ إِلى مَتَى تَقْفُوْ هَوَاكَ وَ تَنْزُوَنُ كَظِبَاءِ خدائے ذوالجلال کے قہر سے ڈر۔کب تک تو اپنی خواہش کی پیروی کرے گا اور ہرنوں کی طرح چوکڑیاں بھرتا رہے گا۔تَبْغِي زَوَالِى وَالْمُهَيْمِنُ حَافِظِي عَادَيْتَ رَبَّا قَادِرًا بِمِرَائِي تو میر از وال چاہتا ہے جب کہ خدائے نگہبان میرا محافظ ہے مجھ سے جھگڑا کرنے میں تو نے رب قدیر کی دشمنی مول لے لی۔إِنَّ الْمُقَرَّبَ لَا يُضَاعُ بِفِتْنَةٍ وَالْآخِرُ يُكْتَبُ عِندَ كُلِّ بَلَاءِ (خدا کا) مقرب کسی فتنے سے ضائع نہیں ہوتا۔ہر مصیبت کے وقت اس کا اجر لکھا جاتا ہے۔مَاخَابَ مَنْ خَافَ الْمُهَيْمِنَ رَبَّهُ إِنَّ الْمُهَيْمِنَ طَالِبُ الطُلَبَاءِ جو اپنے رب مھیمن سے ڈرے وہ نامراد نہیں ہوتا کیونکہ یقینا نگران خدا تو اپنے طالبوں کا طالب ہے۔هَلْ تَطْمَعُ الدُّنْيَا مَذَلَّةَ صَادِقِ هَيْهَاتَ ذَاكَ تَخَيَّلُ السُّفَهَاءِ کیا د نیا صادق کی ذلت کی طمع رکھتی ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔یہ تو بے وقوفوں کا خیال ہے۔إِنَّ الْعَوَاقِبَ لِلَّذِي هُوَ صَالِحٌ وَالْكَرَةُ الْأُولَى لِأَهْلِ جَفَاءِ لڑائی کا انجام نیکو کار کے حق میں ہی نکلتا ہے البتہ پہلا حملہ اہلِ جفا کا ہوتا ہے۔