القصائد الاحمدیہ — Page 233
۲۳۳ يَالَيْتَ مَا وَلَدَتْ كَمِثْلِكَ حَامِلٌ خُفَّاشَ ظُلُمَاتٍ عَدُوَّ ضِيَاءِ کاش کہ کوئی ماں تیرے جیسا ظلمتوں کا چمگادڑ اور روشنی کا دشمن نہ جنتی۔تَسْعَى لِتَأْخُذَنِي الْحُكُومَةُ مُجْرِمًا وَيُلٌ لِّكُلِّ مُزَوِّرٍ وَّشَاءِ تو کوشش کر رہا ہے کہ حکومت مجھے مجرم سمجھ کر گرفتار کرے۔ہر فریبی، چغل خور پر پھٹکار ہے۔لَوْ كُنتُ أُعْطِيتُ الْوَلَاءَ لَعِفْتُهُ مَالِى وَ دُنْيَاكُمْ كَفَانِ كِسَائِى اگر مجھے حکومت بھی دی جاتی تو میں اسے ناپسند کرتا۔میرا تمہاری دنیا سے کیا تعلق ہے؟ میرے لئے تو میری کملی ہی کافی ہے۔مِتْنَا بِمَوْتٍ لا يَرَاهُ عَدُونَا بَعُدَتْ جَنَازَ تُنَا مِنَ الْأَحْيَاءِ ہم تو ایسی موت مر گئے ہیں جس کی حقیقت ہمارا دشمن نہیں جانتا اور ہمارا جنازہ زندوں ( کی نگاہوں) سے دور پڑا ہوا ہے۔تُغَرِى بِقَوْلٍ مُفْتَرَى وَتَخَرُّصٍ حُكَـامَـنَـا الظَّانِينَ كَالْجُهَلَاءِ توافتراء اور انکل سے اُکسا رہا ہے ہمارے ان حکام کو جو نا واقفوں کی طرح بدظن ہیں۔يَاأَيُّهَا الأَعْمَى اَتُنْكِرُ قَادِرًا يَحْمِي أَحِبَّتَهُ مِنَ الْإِبْوَاءِ اے اندھے! کیا تو اس قادر کا انکار کرتا ہے جو اپنے پاس جگہ دے کر اپنے محبوں کی حمایت کرتا ہے۔أَنَيسُتَ كَيْفَ حَمَا الْقَدِيرُ كَلِيْمَهُ أَوَمَا سَمِعْتَ مَالَ شَمْسِ حِرَاءِ کیا تو بھول گیا ہے کہ کس طرح قادر خدا نے اپنے کلیم موسی کی حمایت کی۔اور کیا تو نے غار حراء کے سورج کے انجام کو نہیں سنا۔نَحْوَ السَّمَاءِ وَاَمْرِهَا لَاتَنْظُرَنُ فِي الْأَرْضِ دُسَّتُ عَيْنُكَ الْعَمْيَاءِ تیری نگاہ آسمان اور اس کے حکم کی طرف ہرگز نہیں جائے گی کیونکہ تیری نابینا آنکھ تو زمین میں دھنسی ہوئی ہے۔غَرَّتُكَ أَقْوَالٌ بِغَيْر بَصِيرَةٍ سُتِرَتْ عَلَيْكَ حَقِيقَةُ الْأَنْبَاءِ تجھے عدم بصیرت کی وجہ سے بعض باتوں نے دھوکہ دیا ہے اور تجھ پر آئندہ کی خبروں کی حقیقت پوشیدہ ہوگئی ہے۔اَدْخَلْتَ حِزْبَكَ فِي قَلِيبِ ضَلَالَةٍ أَفَهَذِهِ مِنْ سِيرَةِ الصُّلَحَاءِ تو نے اپنے گروہ کو ضلالت کے کنوئیں میں ڈال دیا ہے۔کیا نیکوں کی سیرت ایسی ہی ہوتی ہے؟