القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 234 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 234

۲۳۴ جَاوَزْتَ بِالتَّكْفِيرِ مِنْ حَدٌ التَّقَى اَشَـقَـقْـتَ قَلْبِي أَوْ رَأَيْتَ خِـفَـائِـي تو تکفیر کر کے تقویٰ کی حد سے تجاوز کر گیا ہے کیا تو نے میرا دل پھاڑ کر دیکھا ہے یا میرے اندرونے کو دیکھ لیا ہے؟ كَمِّلُ بِخُبُثِكَ كُلَّ كَيْدِ تَقْصِدُ وَاللَّهُ يَكْفِي الْعَبْدَ لِلْارُزَاءِ ہر مکر جو تو کرنا چاہتا ہے اپنی خباثت سے کمال تک پہنچا دے۔اور اپنے بندے کو پناہ دینے کے لئے اللہ ہی کافی ہے۔تَأْتِيَكَ آيَاتِي فَتَعُرِفْ وَجْهَهَا فَاصْبِرُ وَلَا تَتْرُكُ طَرِيقَ حَيَاءِ میرے نشان تیرے پاس آئیں گے پس تو ان کی حقیقت کو پہچان لے گا۔پس صبر کر اور حیا کا طریق نہ چھوڑ۔إِنِّي كَتَبْتُ الكُتُبَ مِثْلَ خَوَارِقِ انْظُرُ عِندَكَ مَا يَصُوبُ كَمَائِي میں نے معجزات کے رنگ میں کتابیں لکھی ہیں۔دیکھ کیا تیرے پاس ایسا پانی ہے جو میرے پانی کی طرح برسے۔إِنْ كُنْتَ تَقْدِرُ يَا خَصِيمِ كَقُدْرَتِي فَاكْتُبُ كَمِثْلِى قَاعِدًا بِحِذَائِي اے میرے مخاصم ! اگر تو میری طرح قدرت رکھتا ہے تو میری طرح میرے سامنے بیٹھ کر لکھے۔مَا كُنْتَ تَرْضَى أَنْ تُسَمَّى جَاهِلًا فَالْآنَ كَيْفَ فَعَدْتَ كَاللَّكْنَاءِ تو تو جاہل کہلانے پر راضی نہ تھا سواب تو ژولیدہ زبان عورت کی طرح کیسے بیٹھ گیا ہے۔قَدْ قُلْتَ لِلسُّفَهَاءِ إِنَّ كِتَابَهُ عَفُصٌ يَهِيجُ الْقَيْء مِنْ اِصْغَاءِ تو نے بیوقوفوں سے کہا کہ اس کی کتاب بدمزہ ہے جس کے سننے سے گئے آتی ہے۔مَا قُلْتَ كَالْادَبَاءِ قُلْ لى بَعْدَمَا ظَهَرَتْ عَلَيْكَ رَسَائِلِي كَقُيَاءِ مجھے بتا کہ تو نے ادیبوں کی طرح کیا کہا ہے اس کے بعد کہ تجھے میرے رسالے ئے کی طرح دکھائی دیئے۔قَدْ قُلْتَ إِنِّي بَاسِلٌ مُتَوَكِّلٌ سَمَّيْتَنِى صَيْدًا مِّنَ الْخُيَلَاءِ تو نے دعوی کیا ہے کہ میں دل اور ہوں اور علم میں مہارت رکھنے والا ہوں اور تکبر سے تو نے میرا نام شکار رکھا تھا۔الْيَوْمَ مِنِّى قَدْ هَرَبْتَ كَارُنَبٍ خَوْفًا مِّنَ الْإِخْزَاءِ وَالْإِعْرَاءِ آج تو تو میرے مقابلے میں خرگوش کی طرح بھاگا ہے۔رسوا اور نگا ہونے کے خوف سے۔