القصائد الاحمدیہ — Page 232
۲۳۲ ا فَنَحْنُ مِنْ قَوْمِ النَّصَارَى اَكْفَرُ وَيْلٌ لَّكُمْ وَلِهَذِهِ الْأَرَاءِ تو کیا ہم قوم نصاری سے بھی زیادہ کا فر ہیں۔تف ہے تم پر اور تمہاری ان آراء پر۔يَا شَيْخَ أَرْضِ الْخُبُثِ اَرْضِ بَطَالَةٍ كَفَّرُتَنِي بِالْبُغْضِ وَالشَّحْنَاءِ اے بٹالہ کی خبیث زمین کے شیخ! تو نے کینہ اور بغض سے میری تکفیر کی ہے۔اذَيْتَنِي فَاخْشَ الْعَوَاقِبَ بَعْدَهُ وَالنَّارُ قَدْ تَبْدُو مِنَ الْإِيرَاءِ تو نے مجھے ایذادی ہے پس اب تو اس کے بعد عواقب سے ڈر اور آگ سلگانے سے اکثر بھڑک ہی اٹھتی ہے۔تَبَّتْ يَدَاكَ تَبِعْتَ كُلَّ مَفَاسِدٍ زَلَّتْ بِكَ الْقَدَمَانِ فِي الْأَنْحَاءِ تیرے دونوں ہاتھ ٹوٹ جائیں۔تو نے ہر قسم کے فساد کی پیروی کی مختلف اطراف میں تیرے قدموں نے لغزش کھائی۔أَوْدى شَبَابُكَ وَالنَّوَائِبُ اَخْرَفَتْ فَالْوَقْتُ وَقْتُ الْعَجْزِ لَا الْخُيَلَاءِ تیری جوانی ضائع ہو گئی اور حوادث نے تیری عقل ماردی ہے۔سو یہ وقت عاجزی کا ہے نہ کہ تکبر کا۔تَبْغِى تَبَارِى وَالدَّوَائِرَ مِنْ هَوى فَعَلَيْكَ يَسْقُطُ حَجْرُ كُلِّ بَلَاءِ تو ہوائے نفس سے میری تباہی اور گردشیں چاہتا ہے سو مجھ پر ہر مصیبت کا پتھر پڑرہا ہے اور پڑے گا۔إِنِّي مِنَ الْمَوْلَى فَكَيْفَ أَتَبَّرُ فَاخْشَ الْغَيُورَ وَلَا تَمُتُ بِجَفَاءِ میں تو خدا کی جانب سے ہوں پس میں کس طرح ہلاک ہو سکتا ہوں۔تو غیو رخدا سے ڈراور ( اپنے ظلم سے ہلاک نہ ہو۔افَتَضْرِبَنَّ عَلَى الصَّفَاتِ زُجَاجَةً لَا تَنتَحِرُ وَاطْلُبُ طَرِيقَ بَقَاءِ کیا تو پتھر پر شیشے کو مار رہا ہے؟ خود کشی نہ کر اور زندگی کی راہ تلاش کر۔أتُرُكْ سَبِيلَ شَرَارَةٍ وَخَبَاثَةٍ هَوِّنُ عَلَيْكَ وَلَا تَمُتُ بِعَنَاءِ تو شر اور خباثت کا راستہ چھوڑ دے۔ہوش سے کام لے اور مشقت سے ہلاک نہ ہو۔تُبْ أَيُّهَا الْغَالِي وَتَأْتِي سَاعَةٌ تُمْسِى تَعَضُّ يَمِيْنَكَ الشَّلَّاءِ اے غلو کرنے والے ! تو بہ کر۔جب کہ وہ گھڑی آ رہی ہے کہ تو اپنے مفلوج دائیں ہاتھ کو دانتوں سے کاٹنے لگے گا۔