القصائد الاحمدیہ — Page 222
۲۲۲ اَطَعْتُ النُّورَ حَتَّى صِرْتُ نُورًا وَلَا يَدْرِى خَصِيمٌ سِرَّحَالِ میں نے نور کی اطاعت کی یہاں تک کہ خود نور ہو گیا اور جھگڑنے والا دشمن میرے حال کے بھید سے واقف نہیں۔طَلَعْتُ الْيَوْمَ مِنْ رَبِّ رَحِيمٍ وَجَلَّتْ شَمْسُ بَعْثِى فِي الْكَمَالِ میں نے آج رپ رحیم کی جانب سے طلوع کیا ہے اور میری بعثت کا آفتاب کامل ہو کر روشن ہوا ہے۔فَلَا تَقْنُطُ مِنَ اللَّهِ الرَّءُ وُفِ وَقُمْ وَبِتَوْبَةٍ نَحْوِى تَعَالِ پس خدائے مہربان کی طرف سے نا امید مت ہو۔اٹھ اور تو بہ کے ساتھ میری طرف آ۔قَرَيْنَا مِنْ كَمَالِ النُّصْحِ فَاقْبَلُ قِرَانَا بِالتَهَلُلِ كَالرِّجَالِ ہم نے کمال خیر خواہی سے تمہاری ضیافت کی ہے پس تو ہماری مہمانی کو مردوں کی طرح خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کر۔وَخَيْرُ الزَّادِ تَقْوَى الْقَلْبِ لِلَّهِ فَخُذْ إِيَّاهُ قَبْلَ الْإِرْتِـحَـــالِ اور بہترین تو شہ دل کا خدا سے ڈرنا ہے پس ( دنیا سے کوچ کرنے سے پہلے اسے لے لے۔وَفَكِّرُ فِي كَلَامِي ثُمَّ فَكَّرُ وَلَا تَسْلُكُ كَمَرُءٍ لَا يُبَالِي اور میرے کلام میں غور کر پھر غور کر اور ایسے آدمی کا طریق اختیار نہ کر جو لا پرواہی کرتا ہے۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۲۰۶ تا ۲۱۰)