القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 221

۲۲۱ تَوَفَّى كَاذِبًا رَبِّ غَيُورٌ وَمَا أَوَاهُ أَحَدٌ مِّنْ مَّوَالِي غیرت مند رب نے جھوٹے کو موت دے دی اور اس کے دوستوں میں سے کوئی اسے پناہ نہ دے سکا۔تُوُفِّيَ وَالسُّيُوقَ مُسَلَّلَاتٌ عَلَى أَمْثَالِهِ مِنْ ذِي الْجَلَالِ وہ مرگیا اس حال میں کہ (موت) کی تلوار میں اس جیسوں پر ذوالجلال خدا کی طرف سے کھینچی ہوئی ہیں۔تَجَلَّى صِدْقُنَا وَالصِّدْقُ يَجْلُو فَاشْرَقْنَا كَاشْرَاقِ اللَّالِي ہمارا صدق ظاہر ہو گیا اور سچائی ظاہر ہو کر ہی رہتی ہے۔سو ہم موتیوں کے چمکنے کی طرح روشن ہو گئے۔فَلَا تَعْجَلْ عَلَيْنَا يَا ابْنَ ضِغْنِ وَخَفْ سُوءَ الْعَوَاقِبِ وَالْمَالِ پس اے کینہ ور! ہمارے خلاف جلدی نہ کر اور بُرے نتائج اور بُرے انجام سے ڈر۔نَزَلْنَا مَنْزِلَ الْأَضْيَافِ مِنْكُمْ فَنَرْجُوا أَنْ تَقُولُوا لِى نَزَالِ ہم تمہارے پاس مہمانوں کی طرح اترے ہیں پس ہم امید رکھتے ہیں کہ تم لوگ مجھے کہو آئے تشریف لائیے“۔وَلِي فِي حَضْرَةِ الْمَوْلَى مَقَامٌ وَشَأْنْ قَدْ تَبَاعَدَ مِنْ خَيَالِ اور میرا مولیٰ کریم کی جناب میں ایک بلند مقام ہے اور ایسی شان ہے کہ خیال سے بلند تر ہے۔وَصَافَانِي وَوَافَانِي حَبِيبِي وَاَرُوَانِي بِكَأْسَاتِ الْوِصَالِ میرے حبیب نے مجھ سے محبت کی اور وہ مجھے ملا اور مجھے وصال کے پیالوں سے سیراب کیا۔أَرَانِي الْحُبُّ مَوْتِى بَعْدَ مَوْتِى وَأَنْأَى تُرْبَتِي فَبَدَا زُلَالِي (خدا کی محبت نے مجھے موت کے بعد موت دکھائی اور میری گرد کو (مجھ سے) دور کر دیا ہے تو میرا آب زلال ظاہر ہو گیا۔وَجَدْنَا مَا وَجَدْنَا بَعْدَ وَجُدٍ وَإِقْبَالِي أَتَى بَعْدَ الزَّوَالِ ہم نے جو کچھ بھی پایا ہے، غم کے بعد ہی پایا ہے اور میرا اقبال (میرے) مٹنے کے بعد آیا ہے۔إِذَا انْكَرْتُ مِنْ نَّفْسِي بِصِدْقٍ فَوَافَانِي حَبِيبِي رَوْحُ بَالِي جس وقت صدق کے ساتھ میں نے نفس کی (اطاعت) سے انکار کر دیا تو میرا حبیب جو میرے دل کا آرام ہے میرے پاس آ گیا۔