القصائد الاحمدیہ — Page 214
۲۱۴ ۳۴ أطِعُ رَبَّكَ الْجَبَّارَ أَهْلَ الْأَوَامِرِ وَخَفْ قَهَرَهُ وَاتْرُكُ طَرِيقَ التَّجَاسُرِ اپنے رب کی جو جبار اور احکام دینے کا حقدار ہے اطاعت کر اور اس کے قہر سے ڈر اور بے جادلیری کا طریق چھوڑ دے وَكَيْفَ عَلَى نَارِ النَّهَابِرِ تَصْبِرُ وَانتَ تَأَذَّى عِنْدَ حَرِّ الْهَوَاجِرِ اور تو جہنم کی آگ پر کیسے صبر کر سکے گا حالانکہ تو تو دو پہروں کی تپش سے بھی تکلیف محسوس کرتا ہے وَحُبُّ الْهَوَى وَاللَّهِ صِلٌ مُدَمِّرٌ كَمَـلْـمَـسِ أَفْعَى نَاعِمٌ فِي النَّوَاظِرِ اور ہوا و ہوس کی محبت خدا کی قسم! ایک مہلک سانپ ہے جو سانپ کی کینچلی کی طرح بظا ہر نرم دکھائی دیتی ہے۔فَلَا تَخْتَرُوا الطَّعُوَى فَإِنَّ الهَنَا غَيُورٌ عَلَى حُرُمَاتِهِ غَيْرُ قَاصِرٍ تم سرکشی اختیار نہ کرو کیونکہ ہمارا معبود اپنی حرمتوں کی حفاظت پر غیرت مند ہے اور کوتاہی کرنے والا نہیں۔وَلَا تَقْعُدَنُ يَا ابْنَ الْكِرَامِ بِمُفْسِدِ فَتَرْجِعَ مِنْ حُبِّ الشَّرِيرِ كَخَاسِرِ اے بزرگوں کے بیٹے ! مفسد کے ساتھ مت بیٹھ ور نہ تو شریر کی محبت کی وجہ سے خسارہ پانے والے کی طرح لوٹے گا وَلَا تَحْسَبَنُ ذَنْبًا صَغِيرًا كَهَيْنِ فَإِنَّ وَدَادَ اللَّـمَـمِ إِحْدَى الْكَبَائِرِ اور تو چھوٹے سے گناہ کو بھی معمولی مت سمجھ کیونکہ چھوٹے گناہ کی محبت بھی بڑے گناہوں میں سے ایک گناہ ہے۔وَاخِرُ نُصْحِيْ تَوْبَةٌ ثُمَّ تَوْبَةٌ وَمَوْتُ الْفَتَى خَيْرٌ لَّهُ مِنْ مَّنَاكِرٍ اور میری آخری نصیحت یہ ہے کہ تو بہ کر پھر تو بہ کر اور گناہوں میں مبتلا ہونے کی نسبت جوان کا مرجانا بہتر ہے۔انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۱۳۶۔۱۳۷)