القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 211

۲۱۱ وَاهَالَهُمْ قُتِلُوا لِعِزَّةِ رَبِّهِمُ مَاتُوا لَهُ بِصَدَاقَةٍ وَصَفَاءِ آفرین ہوان پر۔وہ اپنے رب کی عزت کی خاطر قتل کئے گئے انہوں نے اس کے لئے صدق وصفا سے جان دے دی۔شَهِدُوا الْمَعَارِكَ كُلَّهَا حَتَّى قَضَوُا لِرِضًا الْمُهَيْمِنِ نَحْبَهُمُ بِوَفَاءِ وہ تمام معرکوں میں حاضر رہے یہاں تک کہ انہوں نے خدائے مہیمن کی رضا کی خاطر پوری وفاداری کے ساتھ اپنے عہد کو پورا کر دیا۔مَافَارَقُوْا سُبُلَ الهُدَى وَتَخَيَّرُوا جَوْرَ الْعِدَا وَ بَوَائِقَ الْهَيْجَاءِ انہوں نے ہدایت کے راستوں کو ہرگز نہ چھوڑا اور دشمنوں کا ظلم اور بیابانوں کے مصائب کو خوشی خوشی اختیار کر لیا۔هذَا رَسُولٌ قَدْ أَتَيْنَابَابَهُ بِمَحَبَّةٍ وَإِطَاعَةٍ وَّرِضَاءِ یہی وہ رسول ہے جس کے دروازے پر ہم آئے ہیں۔محبت اطاعت اور رضامندی کے ساتھ۔يَا لَيْتَ شُقَّ جَنَانِيَ الْمُتَمَوِّجُ لِأُرِى الْخَلَائِقَ بَحْرَهَا كَالْمَاءِ کاش میرا لہریں مارتا ہوا دل چیرا جا تا تا میں لوگوں کو پانی کی طرح اس کا سمندر دکھا دیتا۔اے وہ إِنَّا قَصَدْنَا ظِلَّهُ بِهَوَاجِرٍ كَالطَّيْرِاذْ يَأْوِى إِلَى الدَّفَوَاءِ ہم نے دو پہروں کی گرمی میں اس کے سایہ کا قصد کیا ہے اس پرندہ کی طرح جب وہ بڑ کے درخت کی پناہ لیتا ہے۔يَامَنْ يُكَذِّبُ دِيْنَنَا وَنَبِيَّنَا وَتَسُبُّ وَجُدَ الْمُصْطَفَى بِجَفَاءِ و شخص اجو ہمارے دین اور ہمارےنبی صلی اللہ علیہ سلم کی تکذیب کرتا ہے اور مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک کواز راہ جفا گالیاں دیتا ہے وَاللَّهِ لَسْتُ بِبَاسِلٍ يَوْمَ الْوَغَى إِنْ لَمْ أَشُنَّ عَلَيْكَ يَا ابْنَ بِغَاءِ خدا کی قسم ! میں جنگ کے دن بہادر نہیں ہوں گا۔اگر میں تجھ پر یکبارگی حملہ نہ کروں اے سرکش انسان ! إِنَّا نُشَاهِدُ حُسُنَهُ وَجَمَالَهُ وَمَلَاحَةً فِي مُقْلَةٍ كَحْلاءِ ہم تو اس کا حسن اور اس کا جمال مشاہدہ کر رہے ہیں اور سرمگیں آنکھوں میں ملاحت بھی۔بَدْرٌ مِنَ اللَّهِ الْكَرِيمِ بِفَضْلِهِ وَالْبَدْرُ لَا يَغْسُوبِلَغْي ضِرَاءِ وہ بدر ہے خداوند کریم کی طرف سے اور اس کے فضل سے۔اور بدر کسی اندھے کی لغو باتوں سے بے نور نہیں ہو جاتا۔