القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 210 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 210

۲۱۰ عُمِسُوا بِبَرَكَاتِ النَّبِيِّ وَفَيُضِهِ فِي النُّورِ بَعْدَ تَمَرُّقِ الْأَهْوَاءِ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات اور فیض سے خواہشات نفسانی کو ٹکڑے ٹکرے کرنے کے بعد نور میں ڈوب گئے۔قَامُوا بِأَقْدَامِ الرَّسُولِ بِغَزْوَةٍ حَضَرُوا جَنَابَ إِمَامِنَا لِفِدَاءِ وہ غزوات میں رسول کے قدموں میں کھڑے رہے وہ ہمارے امام کے حضور فدا ہونے کے لئے حاضر ہوئے۔فَدَمُ الرِّجَالِ لِصِدْقِهِمْ فِي حُبِّهِمْ تَحْتَ السُّيُوفِ أُرِيقَ كَالأَطْلَاءِ اپنی محبت میں ان کے صدق کی وجہ سے ان مردوں کا خون تلواروں کے نیچے اس طرح بہایا گیا جسے ہرن کے نوزائیدہ بچے کو ذبح کیا جائے)۔بَلَغَ الْقُلُوبُ إِلَى الْحَنَاجِرِ كُرُبَةٍ فَتَخَيَّرُوا لِلَّهِ كُلَّ عَنَاءِ (جب) کرب سے دل ہنسلیوں (حلق ) تک پہنچ گئے تو انہوں نے اللہ کی خاطر ہر مصیبت اختیار کر لی۔دَخَلُوا حَدِيقَةَ مِلَّةٍ غَرَّاءِ عَذْبَ الْمَوَارِدِ مُثْمِرَ الشَجَرَاءِ وہ داخل ہو گئے ملت غراء کے باغ میں جو چشموں والا اور ثمر دار درختوں والا ہے۔وَفَنُوا بِحُبِّ الْمُصْطَفَى فَبِحُبِّهِ قُطِعُوا مِنَ الْآبَاءِ وَالْأَبْنَاءِ وہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں فنا ہو گئے اور اس کی محبت کے باعث اپنے باپ دادوں اور بیٹوں سے منقطع ہو گئے۔قَبلُو الِدِينِ اللَّهِ كُلَّ مُصِيبَةٍ حَتَّى رَضُوا بِمَصَائِبِ الْإِجْلَاءِ انہوں نے اللہ کے دین کے لئے ہر مصیبت قبول کر لی حتی کہ وہ جلاوطنی کے مصائب پر بھی راضی ہو گئے۔قَد اثرُوا وَجْهَ النَّبِيِّ وَنُوْرَهُ وَتَبَاعَدُوا مِنْ صُحْبَةِ الرُّفَقَاءِ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے اور اس کے نور کو ترجیح دی اور اپنے ساتھیوں کی صحبت سے دور چلے گئے۔فِي وَقَتِ ظُلُمَاتِ الْمَفَاسِدِ نُوِّرُوا وَجَدُوا السَّنَا فِي اللَّيْلَةِ اللَّيْلَاءِ مفاسد کی تاریکیوں کے وقت ان کو منور کیا گیا۔انہوں نے انتہائی تاریک رات میں روشنی کو پالیا۔نَهَبَ اللَّامُ نُشُوبَهُمْ فَمَلِيْكُهُمْ أَعْطَى جَوَاهِرَ حِكْمَةٍ وَضِيَاءِ کمپینہ لوگوں نے ان کی جائیدادیں چھین لیں تو ان کے (آسمانی بادشاہ نے ان کو ) حکمت اور نور کے جواہرات عطا کئے۔