القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 205

۲۰۵ لَمَّارَأَيْتُ النَّفْسَ سَدَّ مَحَجَّتِى أَسْلَمْتُهَا كَالْمَيِّتِ فِي الْبَيْدَاءِ جب میں نے دیکھا کہ نفس نے میرا راستہ روک رکھا ہے تو میں نے اس کو (اس طرح) چھوڑ دیا جیسے مردہ بیابان میں پڑا ہوا ہو۔إِنِّى شَرِبْتُ كُنُوسَ مَوْتٍ لِلْهُدَى فَرَأَيْتُ بَعْدَ الْمَوْتِ عَيْنَ بَقَائِي میں نے ہدایت کی خاطر موت کے جام نوش کئے پس میں نے موت کے بعد (ہی ) اپنی بقاء کا چشمہ دیکھا۔فُقِدَتْ مُرَادَاتِى بِزَمُنِ لَذَادَةٍ فَوَجَدْتُهَا فِي فُرْقَةٍ وَصِلَاءِ لذت کے زمانہ میں میری مراد میں گم ہو گئیں پھر میں نے ان کو فرقت اور سوز کے اوقات میں پایا۔لَوْلَا مِنَ الرَّحْمَنِ مِصْبَاحُ الْهُدى كَانَتْ زُجَاجَتُنَا بِغَيْرِ صَفَاءِ اگر خدائے رحمن کی طرف سے ہدایت کی قندیل نہ ہوتی تو ہمارا شیشہ صفائی کے بغیر ہی رہ جاتا۔إِنَّى أَرَى فَضْلَ الْكَرِيمِ أَحَاطَنِي فِي النَّشْأَةِ الْأُخْرَى وَفِي الْإِبْدَاءِ میں دیکھتا ہوں کہ خدائے کریم کے فضلوں نے مجھے اپنے احاطہ میں لے رکھا ہے۔نشاۃ ثانیہ میں بھی اور نشاۃ اولی میں بھی۔اللَّهُ أَعْطَانِي حَدَائِقَ عِلْمِهِ لَوْلَا الْعِنَايَةُ كُنتُ كَالسُّفَهَاءِ اللہ نے مجھے اپنے علم کے باغات عطا کئے ہیں اگر یہ عنایت نہ ہوتی تو میں نادانوں کی طرح ہوتا۔وَقَدِ اقْتَضَتْ زَفَرَاتُ مَرْضَى مَقْدَمِي فَحَضَرْتُ حَمَّالًا كُنُوسَ شِفَاءِ مریضوں کی آہوں نے میرے آنے کا تقاضا کیا ہے پس میں شفا کے جام اٹھا کر حاضر ہوا ہوں۔اللَّهُ خَلاقِي وَمُهْجَةٌ مُهْجَتِى حِبُّ فَدَتْهُ النَّفْسُ كُلَّ فِدَاءِ اللہ ہی میرا خالق اور میری جان کی جان ہے وہ ایسا محبوب ہے کہ میری روح اس پر تمام تر فدا ہے۔وَلَهُ التَّفَرُّدُ فِي الْمَحَامِدِ كُلِّهَا وَلَهُ عَلَاءٌ فَوْقَ كُلَّ عَلَاءِ اس کو تمام قابل تعریف صفات میں یکتائی حاصل اور اسی کو برتری حاصل ہے تمام بلندیوں پر۔فَانْهَضْ لَهُ إِنْ كُنْتَ تَعْرِفُ قَدْرَهُ وَاسْبِقُ بِبَذْلِ النَّفْسِ وَالْإِعْدَاءِ اگر تو اس کی قدر پہچانتا ہے تو تو اس کی خاطر اٹھ کھڑا ہو اور اپنی جان کو فدا کر کے اور تیز دوڑ کر آگے بڑھ۔