القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 204

۲۰۴ أَعْطَيْتَنِي كَأْسَ الْمَحَبَّةِ رَيْقَهَا فَشَرِبْتُ رَوْحَاءَ عَلَى رَوْحَاءِ تو نے مجھے محبت کی بہترین ئے کا ساغر عطا کیا تو میں نے جام پر جام پیا۔إِنِّي أَمْوَتُ وَلَا تَمُوْتُ مَحَبَّتِى يُدْرَى بِذِكْرِكَ فِي التُّرَابِ نِدَائِي میں تو مر جاؤں گا لیکن میری محبت نہیں مرے گی۔(قبر کی مٹی میں بھی تیرے ذکر کے ساتھ ہی میری آواز جانی جائے گی۔مَا شَاهَدَتْ عَيْنِي كَمِثْلِكَ مُحْسِنًا يَا وَاسِعَ الْمَعْرُوفِ ذَا النُّعَمَاءِ میری آنکھ نے تجھ سا کوئی محسن نہیں دیکھا۔اے احسانات میں وسعت پیدا کرنے والے اور اے نعمتوں والے! أَنْتَ الَّذِي قَدْ كَانَ مَقْصِدَ مُهْجَتِى فِي كُلِّ رَشْحَ الْقَلَمِ وَالْإِمْلَاءِ تو ہی تو میری جان کا مقصود تھا فلم کے ہر قطرہ ( روشنائی ) اور لکھائی ہوئی تحریر میں۔لَمَّا رَأَيْتُ كَمَالَ لُطْفِكَ وَالنَّدَا ذَهَبَ الْبَلَاءُ فَمَا أُحِسُّ بَلَائِي جب میں نے تیرے لطف کا کمال اور بخششیں دیکھیں تو مصیبت دور ہوگئی اور (اب) میں اپنی مصیبت کو محسوس ہی نہیں کرتا۔إِنِّى تَرَكْتُ النَّفْسَ مَعَ جَذَبَاتِهَا لَمَّا أَتَانِي طَالِبُ الطَّلَبَاءِ میں نے نفس کو اس کے جذبات سمیت چھوڑ دیا جب میرے پاس طالبوں کا طالب آیا۔مُتْنَا بِمَوْتِ لَايَرَاهُ عَدُونَا بَعُدَتْ جَنَازَتُنَا مِنَ الْأَحْيَاءِ ہم ایسی موت سے مرچکے ہیں جس کو ہمارا دشمن نہیں دیکھ سکتا۔ہمارا جنازہ زندوں سے بہت دور ہو گیا ہے۔لَوْلَمْ يَكُنْ رُحْمُ الْمُهَيْمِنِ كَافِلِي كَادَتْ تُعَفِّيْنِي سُيُولُ بُكَائِي اگر خدائے میمن کی شفقت میری کفیل نہ ہوتی تو قریب تھا کہ میری گریہ وزاری کے سیلاب میری ہستی کو مٹادیتے۔نَتْلُو ضِيَاءَ الْحَقِّ عِنْدَ وُضُوحِهِ لَسْنَا بِمُبْتَاعَ الدُّجى بِبَرَاءِ ہم حق تعالی کے نور کی اس کے ظاہر ہونے کے وقت پیروی کرتے ہیں ہم مہینہ کی پہلی رات کے بدلے تاریکی کے خریدار نہیں ہیں۔نَفْسِي نَأْتُ عَنْ كُلِّ مَاهُوَ مُظْلِمٌ فَأَنَخْتُ عِنْدَ مُنَوّرِى وَجُنَائِي میری جان ہر اس چیز سے دور ہے جو تاریک ہے۔میں نے اپنی مضبوط اونٹنی کو اپنے روشن کرنے والے کے پاس بٹھا دیا ہے۔