القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 203 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 203

۲۰۳ ۳۳ الْقَصِيدَهُ فِي حَمْدِ حَضْرَةِ الْعِزَّةِ وَنَعْتِ خَيْرِ البَرِيَّةِ قصیده جناب باری کے حمد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں یہ قصیده بروز دوشنبه ۱۵ / جولائی ۱۸۹۵ء قریباً آٹھ بجے دن شروع کیا گیا اور اسی دن بوقت عصر پانچ بجے سے پہلے سوشعر تیار ہو گیا۔فَذَالِكَ فَضْلُ اللَّهِ وَ تَائِبُدُهُ الْحَارِقُ لِلْعَادَةِ مِن ) يَامَنْ أَحَاطَ الْخَلْقَ بِالْآلَاءِ نُقْنِي عَلَيْكَ وَلَيْسَ حَوْلُ ثَنَاءِ اے وہ ذات جس نے (اپنی) نعمتوں سے مخلوق کا احاطہ کیا ہوا ہے ہم تیری تعریف کرتے ہیں اور تعریف کی طاقت نہیں ہے أُنْظُرُ إِلَيَّ بِرَحْمَةٍ وَعُطُوفَةٍ يَا مَلْجَأَى يَا كَاشِفَ الْغَمَّاءِ مجھ پر رحمت اور شفقت کی نظر کر اے میری پناہ! اے حزن وکرب کو دور فرمانے والے! أنْتَ الْمَلَاذُ وَأَنْتَ كَهُفُ نُفُوسِنَا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا وَ بَعْدَ فَنَاءِ تو ہی جائے پناہ ہے اور تو ہی ہماری جانوں کی پناہ گاہ ہے اس دنیا میں بھی اور فنا کے بعد بھی۔إِنَّا رَأَيْنَا فِي الطَّلَامِ مُصِيبَةٌ فَارْحَمْ وَأَنْزِلْنَا بِدَارِضِيَاءِ ہم نے تاریکی کے زمانہ میں مصیبت دیکھی ہے۔تو رحم فرما اور ہمیں نور کے گھر میں اتار دے۔تَعْفُوا عَنِ الذَّنْبِ العَظِيمِ بِتَوْبَةٍ تُنجِى رِقَابَ النَّاسِ مِنْ أَعْبَاءِ تو تو بہ سے بڑے گناہوں کو ( بھی ) معاف فرما دیتا ہے تو (ہی ) لوگوں کی گردنوں کو بھاری بوجھوں سے نجات دیتا ہے۔أَنْتَ الْمُرَادُ وَأَنْتَ مَطْلَبُ مُهْجَتِي وَعَلَيْكَ كُلُّ تَوَكَّلِي وَرَجَائِي تو ہی مراد ہے اور تو ہی میری روح کا مطلوب ہے اور تجھ پر ہی میرا سارا بھروسہ اور امید ہے۔