القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 201 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 201

۲۰۱ وَكَانَ الْوَرَى بِصَفَاءِ نِيَّاتٍ مَعَ رَبِّهِمُ الْعَلِي فِي كُلِّ مُنْقَلَبٍ اور مخلوق میتوں کی صفائی کی وجہ سے اپنی حالت میں اپنے بلندشان والے رب کے ساتھ ہوگئی لَهُ صَحُبٌ كِرَامٌ رَّاقَ مِيُسَمُهُمْ وَجَلَّتْ مَحَاسِنُهُمْ فِي الْبَدْءِ وَالْعَقِبِ آپ کے کچھ بزرگ صحابی ہیں جن کے فضائل دلکش ہیں۔اور شاندار ہیں ان کی خوبیاں ابتدا اور آخر میں لَهُمْ قُلُوبٌ كَلَيْثٍ غَيْرِ مُكْتَرِثٍ وَفَضْلُهُمْ مُسْتَبِيْنٌ غَيْرُ مُحْتَجِبِ ان کے دل ایک بے پرواہ شیر کی طرح ہیں اور ان کا کمال ظاہر ہے چھپا ہوا نہیں وَقَدْ أَتَتْ مِنْهُ فِي تَفْضِيْلِهِمْ تَتْرًا مِنَ الْأَحَادِيثِ مَا يُغْنِي مِنَ الطَّلَبِ ورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کے فضائل کے بارے میں تواتر کےساتھ آتی ہیں اسی حدیثیں جومز ید تفتیش سے بے نیاز کردیتی ہیں وَقَدْ أَنَارُوا كَمِثْلِ الشَّمْسِ إِيْمَانًا فَإِنْ فَخَرُنَا فَمَا فِي الْفَخْرِ مِنْ كَذِبِ اور وہ سورج کی طرح ایمان سے روشن ہو گئے۔پس اگر ہم ان پر فخر کریں تو فخر میں کوئی جھوٹ نہیں فَتَعْسًا لِّقَومٍ اَنْكَرُوْا شَانَ رُتُبَتِهِمْ وَلَا يَرْجِعُونَ إِلَى صُحُفٍ وَلَا كُتُبِ پس بُرا ہو ان لوگوں کا جنہوں نے ان کے مرتبہ بلندشان کا انکار کر دیا اور وہ قرآن کریم اور کتب (حدیث) کی طرف رجوع نہیں کرتے وَلَا خُرُوجَ لَهُمْ مِّنْ قَبْرِ جَهَلَاتٍ وَلَا خَلَاصَ لَهُم مِّنْ أَمْنَعِ الْحُجُبِ اور ان کے لئے جہالتوں کی قبر سے نکلنا ممکن نہیں اور نہ انہیں سخت ترین پردوں سے چھٹکار اممکن ہے وَالْيَومَ تَسْخَرُ بِالْأَحْبَابِ مِنْ قَوْمٍ وَتَبْكِينُ يَوْمَ جِدَ الْبَيْنِ بِالْكُرَبِ آج تو قوم کے دوستوں کا مذاق اڑا رہا ہے۔اور یقینی جدائی کے دن تو دکھوں کے ساتھ ضرور روئے گا وَمَنْ يُؤْثِرَنْ ذَنْباً وَّلَمْ يَخْشَ رَبَّهُ فَلَا الْمَرْءُ بَلْ قَوْرٌ بِلَا ذَنَبِ اور جو شخص گناہ کو پسند کرے اور اپنے رب سے نہ ڈرے تو وہ آدمی نہیں ہے بلکہ بیل ہے بغیر ڈم کے أنْظُرْ مَعَارِفَنَا وَانْظُرْ دَقَائِقَنَا فَعَافِ كَرَمًا إِنْ أَخْلَلْتُ بِالْأَدَبِ تو ہمارے معارف کو بھی دیکھ اور دقائق کو بھی دیکھ اگر تیرے نزدیک ) میں نے ادب میں کچھ خلل اندازی کی ہے تو از راہ کرم در گذ رفرما