القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 200

۳۲ الْقَصِيْدَةُ فِي مَدْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسِي الْفِدَاءُ لِبَدْرٍ هَاشِمِي عَرَبِى وَدَادُهُ قُرَبٌ نَاهِيْكَ عَنْ قُرَبِ میری جان فدا ہو اس کامل چاند پر جو ہائی عربی ہے۔آپ کی محبت قربتوں کا ایسا ذریعہ ہے جو تھے باقی قربت کے ذرائع سے بے نیاز کر دینے والا ہے نَجَّ الْوَرَى مِنْ كُلِّ زُورٍ وَّ مَعْصِيَةٍ وَمِنْ فُسُوقٍ وَّمِنْ شِرْكِ وَّمِنْ تَبَبِ آپ نے مخلوق کو ہر جھوٹ اور گناہ سے نجات دی اور فسق سے شرک سے اور ہلاکت سے بھی فَنُوِّرَتْ مِلَّةٌ كَانَتْ كَمَعْدُومٍ ضُعُفَا وَّ رُحِمَتُ ذَرَارِى الْجَآنَ بِالشُّهُبِ پس منور ہوگئی وہ ملت جو معدوم کی طرح تھی ضعف میں۔اور شیطان کی ذریت شہابوں سے سنگسار کی گئی۔وَزَحْزَحَتْ دَخُنَّا غَشَّى عَلَى مِلَلٍ وَسَاقَطَتْ لُؤْلُؤًارَطْبًا عَلَى حَطَبِ اور اس ملت نے ان تاریکیوں کو دور کر دیا جو قوموں پر چھائی ہوئی تھیں اور سوکھی لکڑیوں پر تر و تازہ موتی برسادئے وَنَضَّرَتْ شَجُرَ ذِكْرِ اللَّهِ فِي زَمَنِ مَحْلٍ يُمِيتُ قُلُوْبَ النَّاسِ مِنْ لَعِبِ اور اس ملت نے شاداب کر دیا اللہ کے ذکر کے درخت کو ایسے خشک سالی کے زمانے میں جو دلوں کو کھیل کود سے مردہ کر رہا تھا فَلَاحَ نُورٌ عَلَى أَرْضِ مُكَدَّرَةٍ حَقًّا وَّمُزَّقَتِ الْأَشْرَارُ بِالْقُصُبِ پس ظاہر ہوا ایک نور تاریک زمین پر یقینی طور پر اور پارہ پارہ کر دیئے گئے شریر کاٹنے والی تیز تلواروں سے وَمَا بَقَى أَثَرٌ مِنْ ظُلْمٍ وَبِدْعَاتٍ بِنُورِ مُهْجَةِ خَيْرِ الْعُجُمِ وَالْعَرَبِ اور ظلم اور بدعات کا کوئی نشان باقی نہ رہا عرب و عجم میں سے بہترین شخص کی جان کے نور کی وجہ سے