القصائد الاحمدیہ — Page 194
۱۹۴ اور اگر تو اہل معرفت اور اہلِ ہدایت سے ہوتا تو تو میرے اقوال کی کسی حیرانی کے بغیر تصدیق کرتا۔وَلَوْ جِئْتَنِي مِنْ خَوْفِ رَبِّ مُحَاسِبٍ لَأَصْبَحْتَ فِي نَعْمَائِهِ الْمُسْتَكْثَرِ اگر رت محاسب کے خوف سے تو میرے پاس آتا تو تو اس کی بہت بڑی نعمت میں رہتا۔ا لَا لَا تُضِعُ وَقَتَ الْإِنَابَةِ وَالْهُدَى صُدُودُكَ سَمٌ يَا قَلِيْلَ التَّفَكُرِ خبردار ! رجوع الی اللہ اور ہدایت کے وقت کو ضائع نہ کر۔تیرارک جانا اے کم سوچنے والے! ایک زہر ہے وَإِنْ كُنتَ تَزْعَمُ صَبْرَ جِسْمِكَ فِي اللَّظى فَجَرِّبُهُ تَمْرِيْنَا بِحَرْقٍ مُسَعْرِ اگر تیرا خیال ہے کہ تیرا جسم آگ کے شعلے کو برداشت کر سکتا ہے تواس کا تجربہ کر بھڑکنے والی آگ کی جلن کی مشق کرتے ہوئے۔وَمَالَكَ لَا تَبْغِى الْمُعَالِجَ خَائِفًا وَإِنَّكَ فِي دَاءٍ عُضَالِ كَمُحْصَرٍ اور تجھے کیا ہو گیا ہے کہ تو ڈر کر معالج کی خواہش نہیں کرتا حالانکہ تو قولنج کے مریض کی طرح سخت بیماری میں مبتلا ہے۔فَيَا أَيُّهَا الْمُرْخِي عِنَانَ تَعَصُّبِ خَفِ اللَّهَ وَاقْبَلُ تُحَفَ وَعْظِ الْمُذَكَّرِ پس اے تعصب کی باگ کو ڈھیلا کرنے والے! اللہ سے ڈر اور نصیحت کرنے والے کے وعظ کے تحفوں کو قبول کر لے وَخَفْ نَـــارَيَوْمِ لَا يَرُدُّ عَذَابَهَا تَدَلُّـلُ شَيْخِ أَوْتَـظَـاهُـرُ مَعْشَرٍ اور اس دن کی آگ سے ڈر جس کے عذاب کو نہیں ہٹا سکے گا شیخ کا ناز نخرہ اور نہ ہی قبیلہ کی باہمی امداد سَيْمُنَا تَكَالِيْفَ التَّطَاوُلِ مِنْ عِدَا تَمَادَتْ لَيَالِي الْجَوْرِ يَا رَبِّ فَانُصُرِ ہم دشمنوں کی دست درازی کی تکلیفوں سے اکتا چکے ہیں۔ظلم کی راتیں لمبی ہوگئی ہیں۔اے میرے رب ! تو مدد کر وَأَنتَ رَحِيمٌ ذُوْحَنَانٍ وَّرَحْمَةٍ فَنَجٌ عِبَادَكَ مِنْ وَّ بَالٍ مُدَمِّرِ اور تو رحیم ہے مہربان اور صاحب رحمت ہے سو اپنے بندوں کو مہلک وبال سے بچالے رَأَيْتَ الْخَطَايَا فِي أُمُورٍ كَثِيرَةٍ وَإِسْرَافَنَا فَاغْفِرُ وَأَيَّدْ وَعَزِرِ تو نے بہت سے معاملات میں (ہماری) خطائیں دیکھی ہیں اور ہماری زیادتیوں کو بھی۔پس بخش دے اور مددفرما اور تقویت دے وَ أَنْتَ كَرِيمُ الْوَجْهِ مَوْلَى مُجَامِلٌ فَلَا تَطْرُدِ الْغِلْمَانَ بَعْدَ التَّخَيْرِ