القصائد الاحمدیہ — Page 191
۱۹۱ اس کی خوبیوں سے دفاتر بھرے پڑے ہیں اور اس کے فضائل بدرانور کی طرح زیادہ روشن ہیں فَوَاهَا لَّهُ وَلِسَعَيهِ وَلِجُهَدِهِ وَكَانَ لِدِينِ مُحَمَّدٍ خَيْرَ مِغْفَرٍ پس آفرین ہے اس کے لئے اور اس کی کوشش اور جدوجہد کے لئے وہ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بہترین خو د تھا وَفِي وَقْتِهِ أَفْرَاسُ خَيْلِ مُحَمَّدٍ أَثَرُنَ عُبَارًا فِي بِلَادِ التَّنَصُّرِ اور اس کے عہد میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے شاہسواروں کے گھوڑوں نے عیسائیوں کے ملک میں غبار اڑائی وَكَسَّرَ كِسْرَى عَسْكَرُ الدِّينِ شَوْكَةً فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ غَيْرُ صُوَرِ التَّصَوُّرِ اور دین کے لشکر نے کسری کو شوکت کے لحاظ سے توڑ ڈالا پس ان (ا کاسرہ) میں سے خیالی صورتوں کے سوا کچھ باقی نہ رہا وَكَانَ بِشَوْكَتِهِ سُلَيْمَانُ وَقْتِهِ وَجُعِلَتْ لَهُ جِنَّ الْعِدَا كَالْمُسَخَّرِ اور وہ اپنی شوکت میں اپنے زمانہ کا سلیمان تھا اور دشمنوں کے جن اس کے لئے مسخر کر دیئے گئے تھے۔رَأَيْتُ جَلَالَةَ شَأْنِهِ فَذَكَرْتُهُ وَمَا أَمْدَحُ الْمَخْلُوقَ إِلا لِجَوْهَرِ میں نے اس کی بزرگ شان کو دیکھا سو اس کا ذکر کیا اور میں مخلوق کی مدح و ثناء صرف اس کی خوبی کی وجہ سے کرتا ہوں۔وَمَا إِنْ أَخَافُ الْخَلْقَ عِنْدَ نَصَاحَةٍ وَإِنَّ الْمَرَارَةَ يَلْزَمَنُ قَوْلَ مُنْذِرِ اور نصیحت کے وقت میں مخلوق سے نہیں ڈرتا اور انذار کرنے والے کی بات کوتینی تو لازم ہی ہوتی ہے فَلَمَّا أَجَازَتْ حُلَلُ قَوْلِى لُدُونَةٌ وَغَارَتْ دَقَائِقُهُ كَبِتُرِ مُقَعَرِ جب میرے قول کے لباس ( الفاظ ) نرمی سے تجاوز کر گئے اور ان کی باریکیاں گہرے کنوئیں کی طرح گہری ہوگئیں فَافْتَوا جَمِيعًا أَنَّ كُفَرَكَ ثَابِتٌ وَقَتُلَكَ عَمَلٌ صَالِحٌ لِلْمُكَفِّرِ تو ان سب نے فتویٰ دے دیا کہ تیرا کفر تو ثابت ہے اور مکفر کے لئے تجھے مارڈالنا عمل صالح ہے لَقَدْزَيَّنَ الشَّيْطَانُ أَوْهَامَهُمْ لَهُمْ فَتَرَكُوا الصَّلَاحَ لِرَجُلٍ غَيٍّ مُّدْخِرِ یقیناً شیطان نے انسان کے وہموں کو ان کے لئے خوبصورت کر دکھایا ہے۔پس انہوں نے نیکی کو چھوڑ دیا ہے ذلیل کرنے والی گمراہی کی خاطر وَقَدْ مَسَحَ الْقَهَّارُ صُوَرَ قُلُوبِهِمْ وَفَقَدُوا مِنَ الْأَهْوَاءِ قَلْبَ التَّدَبُّرِ