القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 189 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 189

۱۸۹ اور رب تمھیمن صدیق کی مدح کر رہا ہے۔پس اے مسکین ! تو کیا چیز ہے؟ اگر تو عیب لگاتا ہے۔لَهُ بَاقِيَاتٌ صَالِحَاتٌ كَشَارِقِ لَهُ عَيْنُ ايَاتٍ لَّهَذَا التَّطَهُرِ سورج کی طرح اس کے باقیات صالحات موجود ہیں اس پاکیزگی کی وجہ سے اس کے لئے نشانات کا ایک چشمہ موجود ہے تَصَدَّى لِنَصْرِ الدِّينِ فِي وَقْتِ عُسْرِهِ تَبَدَّى بِغَارِ بِالرَّسُولِ الْمُوَّزَرِ دین کی تنگی کے وقت اس نے اس کی مدد کی ذمہ داری لی اور تائید یافت رسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار میں جانے میں پہل کی۔مَكِينْ أَمِينُ زَاهِدٌ عِنْدَ رَبِّهِ مُخَلَّصُ دِينِ الحَقِّ مِنْ كُلِّ مُهم وہ اپنے رب کے حضور میں صاحب مرتبہ امانتدار اور تارک دنیا ہے۔دینِ حق کو خلاصی دینے والا ہے ہر ایک بیہودہ گو سے وَمِنْ فِتَنِ يُخْشَى عَلَى الدِّينِ شَرُّهَا وَمِنْ مِّحَنٍ كَانَتْ كَصَخْرٍ مُكَسِرِ اور خلاصی دینے والا ہے دین کو ایسے فتنوں سے جن کے شر سے دین کو خوف تھا اور ایسے دکھوں سے جو توڑنے والے پتھر کی طرح تھے وَلَوْ كَان هَذَا الرَّجُلُ رَجُلًا مُّنَافِقًا فَمَنْ لِلنَّبِيِّ الْمُطَفَى مِنْ مُّعَزّر اگر یہ آدمی کوئی منافق آدمی تھا تو پھر نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا مددگار کون تھا ؟ اَ تَحْسَبُ صِدِّيقَ الْمُهَيْمِنِ كَافِرًا لِقَوْلِ غَرِيقٍ فِي الضَّلَالَةِ أَكُفَرِ کیا تو خدائے مھیمن کے صدیق کو کافر خیال کرتا ہے ایسے شخص کے کہنے پر جو گمراہی میں غرق اور سب سے بڑا کافر ہے وَكَانَ كَقَلْبِ الْأَنْبِيَاءِ جَنَانُهُ وَهِمَّتُهُ صَوَّالَةٌ كَالْغَضَنُفَرِ اس کا دل تو انبیاء کے دل کی طرح تھا اور اس کی ہمت شیر کی طرح خوب حملہ کرنے والی تھی أَرَى نُورَ وَجُهِ اللهِ فِي عَادَاتِهِ وَجَـلْـوَاتِهِ كَأَنَّهُ قِطْعُ نَيْرِ میں تو اس کی عادات میں اللہ کے چہرے کا نور پاتا ہوں اور اس کے جلووں میں بھی۔گویا کہ وہ آفتاب کے ٹکڑوں کی طرح تھا۔وَإِنَّ لَهُ فِي حَضْرَةِ الْقُدْسِ دَرَجَةً فَوَيْلٌ لِأَلْسِنَةٍ حِدَادٍ كَخَنُجَر اور اسے جناب الہی میں ایک مرتبہ حاصل ہے۔پس ہلاکت ہے ان زبانوں کو جو تنجر کی طرح تیز ہیں وَخِدْمَاتُهُ مِثْلَ الْبُدُورِ مُنِيرَةٌ وَثَمَرَاتُهُ مِثْلَ الْجَنَا الْمُسْتَكْثَرِ