القصائد الاحمدیہ — Page 187
IAZ عشق کی وادی نے ان کے دلوں کے سمندر کو پاک کر دیا پس جھاگ اور میل کچیل پاک ہو جانے کے بعد باقی نہیں رہی۔وَجَاءُ وُا نَبِيَّ اللَّهِ صِدْقًا فَنُوِّرُوا وَلَمْ يَبْقَ أَثَرٌ مِّنْ ظَلَامٍ مُّكَـدِّرِ اور وہ اللہ کے نبی کے پاس صدق دل سے آئے تو روشن کر دیئے گئے اور کدورت پیدا کرنے والی تاریکی کا کوئی اثر باقی نہ رہا۔بِأَجْنِحَةِ الَا شَوَاقِ طَارُوا اِطَاعَةً وَصَارُوا جَوَارِحَ لِلَّنِي الْمُوَقَرِ وہ فرمانبرداری کرتے ہوئے شوق کے پروں کے ساتھ اڑے اور نبی محترم کے لئے وہ دست و بازو بن گئے۔وَ نَحْنُ وَأَنْتُمْ فِي الْبَسَاتِينِ نَرْتَعُ وَهُمْ حَضَرُوا مَيْدَانَ قَتْلِ كَمَحْشَرِ ہم اور تم تو (آج) باغوں میں مزے کرتے ہیں حالانکہ وہ قتل کے میدان میں روز محشر کی طرح حاضر ہوئے تھے۔وَتَرَكُوا هَوَى الْأَوْطَانِ لِلَّهِ خَالِصًا وَجَاوُا الرَّسُولَ كَعَاشِقٍ مُّتَخَيْرِ اور انہوں نے خلوص نیت سے اللہ کے لئے وطن کی محبت چھوڑ دی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عاشق شیدا کی طرح آئے۔عَلَى الضُّعَفِ صَوَّالُونَ مِنْ قُوَّةِ الْهُدَى عَلَى الْجُرُحِ سَلَّالُونَ سَيْفَ التَّشَذُّرِ وہ باوجود ضعف کے ہدایت کی قوت کے ساتھ حملہ آور تھے۔مجروح ہو جانے پر بھی ٹکڑے ٹکڑے کرنے والی تلوار سونتنے والے تھے۔اَتُكْفِرُ خُلَفَاءَ النَّبِيِّ تَجَاسُرًا اَتَلْعَنُ مَنْ هُوَ مِثْلَ بَدْرٍ مُنَوَّرِ اے مخاطب ! کیا تو جسارت سے نبی کے خلفاء کی تکفیر کرتا ہے؟ کیا تو ان پر لعنت کرتا ہے جو کامل چاند کی طرح روشن ہیں؟ وَإِنْ كُنْتَ قَدْ سَاءَ تُكَ اَمْرُ خِلَافَةٍ فَحَارِبُ مَلِيْكًا اِجْتَبَاهُمُ كَمُشْتَرِى اور اگر تجھ کو ( ان کی ) خلافت کا معاملہ بُر الگتا ہے تو اس بادشاہ سے لڑائی کر جس نے انہیں خریدار کی طرح پسند کر لیا ہے۔فَبِإِذْنِهِ قَدْ وَقَعَ مَا كَانَ وَاقِعَا فَلَا تَبْكِ بَعْدَ ظُهُورٍ قَدْرٍ مُّقَدَّرِ اسی بادشاہ کے اذن سے واقع ہونے والا امر واقعہ ہو چکا ہے پس مقدر تقدیر کے ظاہر ہو جانے کے بعدمت رو۔وَمَا اسْتَخْلَفَ اللهُ الْعَلِيْمُ كَذَاهِلِ وَمَا كَانَ رَبُّ الْكَائِنَاتِ كَمُهْتَرِ اور انہیں خدا وند علیم نے بھولنے والے کی طرح خلیفہ نہیں بنایا اور رب کا ئنات غلط بات کہنے والے کی طرح نہ تھا۔وَقُضِيَتْ أُمُورُ خِلَافَةٍ مَّوْعُودَةٍ وَفِي ذَاكَ ايَاتٌ لِقَلْبٍ مُّفَكِّرِ