القصائد الاحمدیہ — Page 181
۱۸۱ وَأَيُّ نُبُوْتِ نَسَبٍ عِنْدَ قَوْمٍ سِوَى الدَّعُوَى كَأَوْهَامِ الْمَنَامِ اور کس قوم کے پاس اپنے نسب کا ثبوت ہے۔بجز دعوئی کے جو خواب کے وہموں کی طرح ہے۔فَتُوْبُوا وَاتَّقُوا رَبَّا قَدِيرًا مَلِيْكَ الْخَلْقِ وَالرُّسُلِ الْعِظَامِ پس تو بہ کرو اور اُس ربّ قادر سے ڈرو۔جو خلقت اور ( عظیم ) رسولوں کا بادشاہ ہے۔وَمَنْ رَامَى فَأَيْنَ يَفِرُّ مِنَّا وَإِنَّا النَّازِلُونَ بِأَرْضِ رَامِي اور جو شخص ہم سے تیراندازی کرے ہم سے کہاں بھاگے گا۔کیونکہ ہم تیر چلانے والوں کی زمین پر اتریں گے۔وَرَدْنَا الْمَاءَ صَفْوًا غَيْرَ كَدْرٍ وَيَشْرَبُ غَيْرُنَا وَشَلَ الْأَجَامِ ہم پانی میں وارد ہو گئے جو مصفا اور غیر ملکہ رہے۔اور ہمارے مخالف تھوڑ اسا جنگلوں کا پانی پی رہے ہیں۔أتَانِي الصَّالِحُونِ فَبَايَعُونِي وَخَافُوْا رَبَّهُمْ يَوْمَ الْقِيَامِ نیک لوگ میرے پاس آئے اور اُنہوں نے بیعت کی۔اور خدا تعالیٰ سے اور جزا سزا کے دن سے ڈرے۔وَأَمَّا الطَّالِحُونَ فَا كُفَرُونِي وَلَعَنُونِي وَمَا فَهِمُوا كَلَامِي جو تباہ کا رتھے سو انہوں نے مجھے کا فرٹھہرایا۔اور میرے پرلعنتیں کیں اور میرے کلام کونہ سمجھا۔وَافْتَوُا بِالْهَوَى مِنْ غَيْرِ عِلْمٍ وَقَالُوْا كَافِرٌ لِلْكُفْرِ كَامِي اور بغیر بصیرت علم کے اور ہوا و ہوس کے ساتھ ) فتویٰ لکھا۔اور کہا کہ کافر ہے اور کفر کے لئے گواہی کو چھپانے والا۔وَصَالُوْا كَالَافَاعِى اَوْ ذِيَابٍ وَإِنَّ اللَّهَ لِلصَّدِّيقِ حَـــامِـى اور سانپوں کی طرح انہوں نے حملہ کیا یا بھیڑیوں کی طرح۔اور راستباز کے لئے خدا تعالیٰ حمایت کرنے والا ہے۔لَقَدْ كَذَبُوْا وَخَلَّاقِي يَرَاهُمْ وَلِلشَّيْطَان صَارُوا كَالْغُلَامِ اُنہوں نے جُھوٹ بولا اور میرا خدا ان کو دیکھ رہا ہے۔اور شیطان کے لئے غلام کی طرح ہو گئے۔فَلَا وَاللهِ لَسْتُ كَكَافِرِيْنَا فَدَتْ نَفْسِي نَبِيًّا ذَا الْمَقَامِ پس یہ بات نہیں اور بخدا میں کافر نہیں۔میری جان اُس نبی پر قربان ہے جو صاحب مقام محمود ہے۔