القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 177

122 قَمَرٌ بِحِلْيَتِهِ مُشَاكِهَةُ الدَّمِ وَجْهٌ كَغَضْبَان يَهُولُ وَيُرْعِبُ چاند اپنی شکل میں خون کے مشابہ ہورہا ہے غصہ والوں کی طرح منہ ہے جو ڈراتا ہے۔فِي جَلْهَتَيْهِ بَدَا السَّحَابُ كَأَنَّهُ كَفَتْ عَلَى أَيْدِي الَّتِي هِيَ تَغْضَبُ اس کے دونوں کناروں میں اس طور سے بادل ہے گویا وہ سوئی کے نقش کے دائرے ہیں اس عورت کے ہاتھ میں جو غصہ میں ہو۔قَدْ صَارَ قَمَرُ اللهِ مَطْعُونَ الدُّجى لَيْلٌ مُّبِيرٌ كَافِرٌ فَتَعَجَّبُوا خدا تعالی کے چاند کو تاریکی کی تہمت لگائی گئی چاندنی رات اندھیری رات بن گئی۔پس تعجب کرو۔إِنِّي أَرَاهُ كَنُويِ دَارٍ خَرُبَةٍ لَمْ يَبْقَ الأَمِثْلَ طَلَلٍ يُشْجِبُ میں اس کو خراب شدہ گھر کی خندق کی طرح دیکھتا ہوں صرف نشان کی طرح باقی رہ گیا ہے جو غمگین کرتا ہے۔كُسِفَتْ ذُكَاءُ اللَّهِ بَعْدَ خُسُوفِهِ إِنِّي أَرَاهَا مِثْلَ دَارٍ تُخْرَبُ پھر سورج کو خسوف کے بعد گرہن لگا اور میں اس کو د یکھتا ہوں جیسا کہ گھر خراب شدہ۔كُسِفَتْ وَظَهَرَ الْكَدْرُ فِي أَجْزَاعِهَا عَفَتِ الَّا نَارَةُ مِثْلَ مَاءٍ يَنْصُبُ گرہن لگا اور اس کے تمام کناروں میں گرہن ظاہر ہو گیا اور روشنی اس طرح دور ہو گئی جیسا کہ پانی زمین کے نیچے چلا جاتا ہے۔انْثَنَتْ فِي السَّاعَتَيْنِ كَكَافِرٍ ضَاهَتْ نَذِيرًا يُكْفَرَنُ وَيُكَذَّبُ یہاں تک کہ دو گھنٹہ میں شب تاریک سے مشابہ ہو گیا اس نذیر سے مشابہ ہوا جس کو کا فرٹھہرایا گیا۔وَتَبَيَّنَتْ صُوَرُ الطَّلَامِ كَأَنَّهَا الْقَتْ يَدَا فِي اللَّيْلِ أَوْ هِيَ كَوْكَبُ اور اندھیرے کی کئی صورتیں ظاہر ہوئیں گویا کہ سورج نے اپنا ہاتھ رات میں ڈال دیا یا وہ ایک ستارہ ہے۔النَّيْرَانِ تَجَاوَبَا فِي أَمْرِنَا قَامَا كَشُهَدَاءٍ وَّ زَالَ الْهَيْدَبُ سورج اور چاند ہمارے امر میں متفق ہو گئے اور گواہوں کی طرح کھڑے ہو گئے اور شک کا بادل دور ہو گیا۔لَمَّارَأَيْتُ النَّيِّرَيْن تَكَسَّفَا وَآنَارَ وَجُهُهُمَا وَ زَالَ الْغَيْهَبُ جبکہ میں نے دیکھا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن ہوا اور پھر دیکھا کہ ان دونوں کا منہ روشن ہو گیا اور تاریکی جاتی رہی۔