القصائد الاحمدیہ — Page 176
127 ذَرَفَتْ عُيُونُكَ وَالدُّمُوعُ تَحَدَّرَتْ مِنْ مِّثْلِكَ الْأَوَّابِ هَذَا أَعْجَبُ تیرے آنسو جاری ہو گئے اور یہ تیرے جیسے اوّاب سے عجیب ہے۔هَنَّا سَأَلْتَ مُجَرِّبًا عِنْدَ الأذى وِلِكُلِّ أَمْرٍ عُقْدَةٌ وَّ مُجَرِّبُ تو نے دیکھ کے وقت کسی تجربہ کار کو کیوں نہ پوچھا اور ہر یک امر میں ایک عقدہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ایک تجربہ کار۔تَبْكِي عَلى هَذَا الْقَلِيْلِ مِنَ الدُّجى سِرْنَا بِجَوْفِ اللَّيْلِ يَا مُتَأَوِّبُ تو تھوڑے سے اندھیرے کے لئے روتا ہے ہم تو رات کی وسط میں پھر رہے ہیں۔اے رات کے ابتدا میں آنے والے! أُثْنِي عَلَى رَبِّ الْأَنَامِ فَإِنَّهُ أَبْدَى نَظِيْرِي فِي السَّمَاءِ فَاطْرَبُ میں خدا تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جو اس نے آسمان میں میر انظیر ظاہر کیا۔قَمَرُ السَّمَاءِ مُشَابِةٌ بِقَرِيحَتِى كَطَلِيْحِ أَسْفَارِ السُّرَى يَتَطَرَّبُ آسمان کا چاند میری طبیعت سے مشابہ ہے۔اس اونٹ کی طرح جو رات چلنے کی مشق رکھتا ہے خوش ہے۔نَصَعَتْ مَقَاصِدُ رَبِّنَا بِخُسُوفِهِ فَاطْلُبُ هُدَيهُ وَمَا أَخَالُكَ تَطْلُبُ اس کے گرہن سے ہمارے خداوند کے مقاصد ظاہر ہو گئے سو اس کی ہدایت کو ڈھونڈھ اور میں نہیں امید رکھتا کہ تو ڈھونڈے۔ظَهَرَتْ بِفَضْلِ اللَّهِ فِي بُلْدَانِنَا آيَاتُهُ الْعُظمى فَتُوبُوا وَارْهَبُوا خدا کے فضل سے اس کے بڑے نشان ہمارے ملک میں ظاہر ہو گئے پس تو بہ کرو اور اس سے ڈرو۔قَمَرٌ كَمِثْلِ ظَعِيْنَةٍ فِى ظَعْنِهَا شَاقَتُكَ جَلْوَتُهُ وَفِيْهَا تَرْغَبُ چاند ایسا ہے جیسے ہودہ میں ہودہ نشین عورت۔اس کا جلوہ شوق بخش ہے اور رغبت رہ ہے۔وَدْقُ الرَّوَاعِدِ قَدْ تَعَرَّضَ حَوْلَهُ ارْزَامُهَا فِي كُلِّ حِينٍ يُعْجِبُ بادلوں کا مینہ اس کے گردا گرد ہے ان بادلوں کی آواز ہر وقت تعجب میں ڈالتی ہے۔غَيْمٌ كَاطْبَاقٍ تَصِرُّ خِيَامُهُ رَعْدٌ كَمِثْلِ الصَّالِحِيْنَ يُأَوِّبُ بادل طبق برطبق سے اس کے خیموں کی آواز آرہی ہے اور بادل کی گرج نیک بختوں کی طرح تسبیح میں ہے۔