القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 175

۱۷۵ مُتَفَرِّقُ غَيْمُ السَّمَاءِ وَزُجُلُهُ بِيضٌ كَانَ نِعَاجَ وَادٍ تَسْرَبُ بادل الگ الگ ہیں اور ان کی جماعتیں سفید ہیں گویا جنگل کی بھیٹر میں ایک طرف چلی جارہی ہیں۔طَوْرًا يُرى مِثْلَ الطَّبَاءِ بِحُسْنِهَا أُخْرى كَا رَامٍ تَمِيسُ وَتَهْرُبُ بعض وقت تو یہ بادلوں کے ٹکڑے ہرنوں کی طرح اپنے حسن میں ظاہر ہوتے ہیں اور کبھی کم عمر ہرنوں کی طرح ناز سے چلتے اور بھاگتے ہیں۔قَمَرٌ كَظُعْنِ وَالسَّحَابُ قِرَامُهَا وَالِرِّيحُ كِلَّتُهَا لِيُنْهَى الْأَجْنَبُ چاند ہو رج نشین عورتوں کی طرح ہے اور بادل اس ہودہ کا موٹا پر دہ ہے اور ہوا اس کا بار یک پردہ ہے تا کہ اجنبی کو روکا جاوے۔صُبَّتْ عَلَى قَمَرِ السَّمَاءِ مُصِيبَةٌ وَكَمِثْلِنَا بِزَوَالِ نُورِ يُرْعَبُ آسمان کے چاند پر مصیبت پڑ گئی اور ہماری طرح نور کے زوال پر ڈرایا جاتا ہے۔إِنِّى أَرى قَطرًا لَدَيْهِ كَأَنَّهُ يَبْكِي كَرَجُلٍ يُنْهَبْنُ وَيَخَيَّبُ میں مینہ اس کے پاس دیکھتا ہوں گویا کہ وہ اس شخص کی طرح روتا ہے جولوٹا جائے اور نومید کیا جائے۔يَا قَمَرَ زَاوِيَةِ السَّمَاءِ تَصَبَّرَنُ مِثْلِى فَيُدْرِكَكَ النَّصِيرُ الْأَقْرَبُ اے گوشئہ آسمان کے چاند ! میری مانند صبر کر پس خدا تیری مدد کرے گا۔أَبْشِرُ سَيَنْحَسِرُ الظَّلَامُ بِفَضْلِهِ إِنَّ الْبَلِيَّةَ لَا تَدُومُ وَ تَذْهَبُ خوش ہو کہ عنقریب تاریکی دور ہو جائے گی مصیبت ہمیشہ نہیں رہتی اور چلی جاتی ہے۔إِنَّ الْمُهَيْمِـنَ لَا يُضِيعُ ضِيَاءَهُ فَلِكُلِّ نُورٍ حَافِظٌ وَمُؤَرِّبُ خدا اپنی روشنی کو دور نہیں کرتا اور ہر یک نور کے لئے نگہبان ہے اور پورا کرنے والا۔هذَا ظَلَامُ السَّاعَتَيْنِ وَإِنَّنِي مِنْ بُرُهَةٍ اَرْنُوا الدُّجى وَأَعَدَّبُ یہ تو دو گھڑی کا اندھیرا ہے اور میں ایک زمانہ سے اندھیرا دیکھ رہا ہوں اور دکھ اٹھارہاہوں۔تَلِجُ السَّحَابَ لِتَبْكِيَنَّ تَأَلُّمًا وَالصَّبْرُ خَيْرٌ لِّلْمُصَابِ وَأَصْوَبُ تو بادل میں داخل ہوتا ہے تا کہ درد دل سے رودے اور مصیبت زدہ کے لئے صبر کرنا بہتر ہے۔