القصائد الاحمدیہ — Page 173
۱۷۳ حَلَّتْ بِاَرْضِ الْمُسْلِمِيْنَ جُمُوعُهُمْ وَخَيْتُهُمْ يُؤْذِي النَّبِيَّ وَيَأْشُبُ مسلمانوں کی زمین میں ان کے گروہ نازل ہوئے اور ان میں سے جو پلید ہے وہ نبی کو کھودیتا اور عیب نکالتا ہے۔إِنَّى أَرى اِيُذَا وَ هُمْ وَ فَسَادَهُمْ وَيَذُوبُ رُوحِي وَالْوَجُودُ يُشَقَّبُ میں ان کے ایذا اور فساد دیکھتا ہوں اور روح گداز ہوتی ہے اور وجود میں سوراخ ہوتا ہے۔عَيْن جَرَتْ مِنْ قَطْرِ دَمْعِ عَيْنُهَا قَلْبٌ عَلَى جَمْرِ الْغَضَا يَتَقَلَّبُ آنکھ سے آنسوؤں کی بارش کے ساتھ چشمہ جاری ہے دل افروختہ کوئلوں پر جو غضا کی لکڑی کے ہیں لوٹ رہا ہے۔مِنْ كُلِ قُنَّاتٍ وَّجَبُلٍ شَاهِقٍ وَّ شَوَامِحٍ نَسَلُوْا وَ وُطِئَ الْمِجْنَبُ تمام پہاڑوں کی چوٹیوں اور بلند پہاڑوں سے اور اونچے پہاڑوں سے دشمن دوڑے اور عرب کی سرحد تک پہنچ گئے۔وَعَلَى قِنَان الشَّامِحَاتِ مُصِيبَةٌ عُظمى فَأَيْنَ الْوَهُدُ مِنْهُمْ تَهْرُبُ اور بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر ایک بڑی مصیبت ہے پس نشیب ان کے حملوں سے کہاں بھاگ جائیں۔رِيحُ الْمَصَائِفِ قَدْ اَطَالَتْ لَهُبَهَا مِنْ سَوْمِهَا وَ سَهَامِهَا نَتَعَجَّبُ گرمی کی ہوانے اپنے شعلے لمبے کر دیے۔اس کے چلنے اور اس کی لو سے ہم تعجب کرتے ہیں۔مَا ما بَقِيَ مِنْ سَبَبٍ وَّلَا مِنْ رُمَّةٍ إِلا الَّذِي هُوَ قَادِرٌ وَّمُسَبِّبُ کوئی پکا سبب اور کوئی کچا سبب باقی نہ رہامگر وہ خدا جو سبوں کو پیدا کرتا ہے۔شَبُّوا لَظَى الطَّغُوى فَبَعْدَ ضِرَامِهِ هَاجَ الدُّخَانُ وَ كُلَّ طَرَفٍ يَشْغَبُ انہوں نے حد سے بڑھنے کی آگ کو بھڑکا دیا سو اس کے بھڑکنے کے بعد دھواں اٹھا اور ہر ایک طرف تباہی ڈالی۔حَرَقَ كَجَبَلٍ سَاطِع أَسْنَامُهُ فِتَنْ تُبِيدُ الْكَائِنَاتِ وَتَنْهَبُ یہ وہ آگ ہے جو بلند پہاڑ کی طرح اس کی چوٹی ہے۔یہ وہ فتنے ہیں جو ہلاک کرتے جاتے اور لوٹتے جاتے ہیں۔إِنِّي أَرى أَقْوَالَهُمْ كَاسِنَّةٍ تُؤْذِي الْقُلُوبَ جُرُوحُهَا وَ تُعَذِّبُ میں ان کی باتوں کو برچھیوں کی طرح دیکھتا ہوں دلوں کو ان کے زخم دکھ دیتے ہیں اور عذاب پہنچاتے ہیں۔