القصائد الاحمدیہ — Page 172
۱۷۲ ۲۵ الْقَصْدَةُ قصیده قَدْ جَاءَ يَوْمُ اللَّهِ يَوْمٌ أَطْيَبُ بُشْرَى لِذِي رُشْدِ يَقُومُ وَيَطْلُبُ خدا کا دن آ گیا جو پاک دن ہے اس رشید کو خوشخبری ہو جو کھڑا ہوتا ہے اور اس کو ڈھونڈتا ہے۔سَبَقَتْ يَدَا جَبَّارِنَا سَيْفَ العِدَا فَتَرَى الْعَدُوَّ النِّكْسَ كَيْفَ يُتَرَّبُ ہمارے بہار کے ہاتھ دشمنوں کی تلوار سے بڑھ گئے پس تو دشمن ضعیف کود یکھے گا کہ کیونکر خاک میں ملایا جاتا ہے۔وَأَنَا الْمَسِيحُ فَلَا تَظُنَّنُ غَيْرَهُ قَدْ جَاءَكَ الْمَهْدِيُّ وَاَنْتَ تُكَذِّبُ اور میں ہی مسیح موعود ہوں پس کوئی دوسرا خیال مت کر تیرے پاس مہدی موعود آیا اور تو تکذیب کرتا ہے۔هَلْ غَادَرَ الْكُفَّارُ مِنْ نَّوعِ الْآذَى أَمْ لَا تَرَى الْإِسْلَامَ كَيْفَ يُذَوَّبُ کیا کفار نے کسی قسم کا دکھ اٹھا رکھا ہے یا تو اسلام کونہیں دیکھتا کہ کیونکر گداز کیا جاتا ہے؟