القصائد الاحمدیہ — Page 171
لَا يُلُهكُمْ عُوَلٌ دَنِيٌّ مُفْسِدٌ عَنْ رَّبِّكُمُ يَا مَعْشَرَ الْحُدَثَانِ تمہیں کوئی مفسد کمینہ اپنے رب سے مت رو کے اے نوعمر لوگو! قَدْ قُلْتُ مُرْتَجِلًا فَجَاءَتْ هَذِهِ كَالدُّرَرِ أَوْ كَسَبِيكَةِ الْعِقْيَانِ میں نے یہ قصیدہ جلدی سے کہا ہے اور یہ قصیدہ موتی کی طرح ہے یا اس سونے کی طرح جو کٹھالی سے نکلتا ہے۔مَاقُلْتُهَا مِنْ قُوَّتِي لَكِنَّهَا دُرَرٌ مِّنَ الْمَوْلَى وَنَظْمُ بَنَانِي میں نے اس کو اپنی قوت سے نہیں کہا مگر وہ موتی خدا تعالیٰ سے ہیں اور میرے ہاتھوں نے پروئے ہیں۔يَارَبِّ بَارِكُهَا بِوَجُهِ مُحَمَّدٍ رَيْقُ الْكِرَامِ وَنُخْبَةُ الاعْيَانِ اے خدا! محمد کے منہ کے لئے اس میں برکت ڈال جو سب کریموں سے افضل اور برگزیدوں سے برگزیدہ ہے۔(نور الحق جلد ثانی۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۱۷ تا ۲۲۷)