القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 168

۱۶۸ مَاجَاءَ نِي قَوْمِي شَقًّا وَّ تَبَاعَدُوا فَتَرَكْتُهُمْ مَّعَ لَوْعَةِ الْهَجْرَان میری قوم بوجہ بد بختی کے میرے پاس نہیں آئی اور دور ہوگئی پس میں نے باوجود سوزش جدائی انہیں چھوڑ دیا۔إِنِّي رَأَيْتُ بِهِجُرِ قَوْمٍ فَارَقُوا حَالًا كَحَالَةِ مُرْسَلٍ صِنْعَانِي میں نے اس قوم کی جدائی میں جو جدا ہوگئی وہ حالت دیکھی جو یعقوب علیہ السلام کی حالت سے مشابہ ہے۔وَسَأَلْتُ رَبِّي فَاسْتَجَابَ لِيَ الدُّعَا فَرَجَعْتُ مَجْلُوا مِّنَ الْأَحْزَانِ اور میں نے اپنے رب سے سوال کیا اور اس نے میری دعا قبول کی پس میں غموں سے نجات یافتہ ہو گیا۔إِنَّ الْعِدَا لَا يَفْهَمُونَ مَعَارِفِي وَيُكَذِّبُونَ الْحَقَّ كَالنَّشْوَان دشمن میرے معارف کو نہیں سمجھتے اور مستوں کی طرح حق کی تکذیب کر رہے ہیں۔لَا يَنْظُرُوْنَ تَدَبُّرًا وَتَفَكُرًا وَتَا بَّـطُوا الْأَوْهَامَ كَالْأَوْثَانِ اور تدبر اور تفکر سے نہیں سوچتے اور وہموں کو بتوں کی طرح اپنی بغل میں رکھتے ہیں۔إِنَّ العُقُولَ عَلَى النُّقُولِ شَوَاهِدٌ تَحْتَاجُ أَثْقَالُ إِلَى مِيزَانِ عقلیں نقلوں پر گواہ ہیں بوجھ میزان کے محتاج ہوتے ہیں۔إِنَّ النُّهى مَلَكَتْ يَدَاهُ قُلُوبَنَا وَ نَرى بَرِيقَ الْحَقِّ بِالْبُرْهَان عقل کے دونوں ہاتھ ہمارے دلوں کے مالک ہیں اور حق کی روشنی ہم برہان سے ہی دیکھتے ہیں۔اِنَّ الْعِدَا يَئِسُوا إِذَا كُشِفَ الْهُدَى فَالْيَوْمَ لَيْسَ لَهُمْ بِذَاكَ يَدَانِ دشمن نومید ہو گئے جب کہ ہدایت کھل گئی پس آج ان کو اس کے ساتھ مقابلہ کے ہاتھ نہیں۔يَا لَاعِنِى خَفْ قَهُرَ رَبِّ قَادِرٍ وَاللَّهِ إِنِّي مُسْلِمٌ دُوشَانِ اے میرے لعنت کرنے والے ! خدا تعالیٰ کے قہر سے ڈر۔اور بخدا میں ایک مسلمان ذی شان ہوں۔وَاللَّهِ إِنِّى صَادِق لَا كَاذِبٌ شَهِدَتْ سَمَاءُ اللَّهِ وَالْمَلَوَانِ اور بخدا میں صادق ہوں نہ کا ذب آسمان اور رات دن نے گواہی دے دی۔