القصائد الاحمدیہ — Page 161
ད་་ الْيَوْمَ يَبْكِي كُلُّ اَهْلِ بَصِيرَةٍ مُتَذَكِّرًا لِمَرَاحِمَ الرَّحْمَانِ آج ہر یک اہل بصیرت رورہا ہے اور رونے کا سبب خدا تعالیٰ کی رحمتوں کو یاد کرنا ہے۔وَمُصَدِّقًا أَنْوَارَ نَبَأَ نَبِيِّنَا وَمُعَلِّمًا لِمَوَاهِبِ الْمَنَّانِ اور دوسرے یہ سبب کہ رونے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کو تصدیق کرتے ہیں۔اور بخشائش محسن حقیقی کی عظمت کا تصور کر رہے ہیں۔الْيَوْمَ كُلُّ مُبَايِعِ ذِى قَطْنَةٍ ازْدَادَ إِيْمَانًا عَلَى إِيْمَـانِ آج ہر یک دانا بیعت کرنے والا اپنے ایمان میں ایسا زیادہ ہو گیا کہ گو یا یا ایمان پایا۔الْيَوْمَ مَنْ عَادَى رَأَى خُسْرَانَهُ وَالْتَاحَ مَقْعَدَهُ مِنَ النِّيرَانِ آج ہر یک دشمن نے اپنا نقصان دیکھ لیا اور اس کا آگ میں ٹھکانا ہونا ظاہر ہو گیا۔أَليَوْمَ كُلُّ مُوَافِقٍ ذِى قُرُبَةٍ قَدْ شَدَّ رَبْطَ جَنَانِهِ بِجَنَانِي آج ہر یک موافق ذی قربت نے اپنے دل کا ربط میرے دل سے زیادہ کر لیا۔ظَهَرَتْ كَمِثْلِ الشَّمْسِ حُجَّةُ صِدْقِنَا اَوْ كَالْخُيُولِ الصَّافِنَاتِ بِشَأْنِ آفتاب کی طرح ہمارے صدق کی حجت ظاہر ہوگی یا اپنی شان میں ان گھوڑوں کی طرح جب قدم کے مقابل پر ان کا قدم پڑتا ہے۔مَاتَ الْعِدَا بَتَفَكُنِ وَتَنَدُّمِ وَالْحَقُّ بَانَ كَصَارِمِ عُرْيَانِ دشمن شرمندگی اور ندامت سے مر گئے اور حق ایسا کھل گیا جیسا کہ نگی تلوار۔اللَّهُ أَكْبَرُ كَيْفَ أَبدى آيَةً كَشَفَ الْغِطَاءَ بِإِنَارَةِ الْبُرْهَانِ کیا ہی بزرگ خدا ہے کیونکر اس نے نشان کو ظاہر کیا بر ہان کو روشن کر کے پردہ کوکھول دیا۔هَلْ كَانَ هَذَا فِعْلَ رَبِّ قَادِرٍ أَمْ هَلْ تَرَاهُ مَكَائِدَ الْإِنْسَانِ کیا یہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے یا تو اس کو انسان کا فریب سمجھتا ہے؟ هذَا نُجُومُ أَوْ مِنَ الْجَفْرِ الَّذِي فَكَرْتَ فِيْهِ كَمُفْتَرٍ فَتَانِ کیا یہ نجوم ہے یا وہ جفر ہے جس میں تو نے مفتر یوں فتنہ انگیزوں کی طرح فکر سے کام لیا ہے۔