القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 153

۱۵۳ شَمْسُ الضُّحَى بَرَزَتْ بِرُعْبِ مُبَارِزِ اَفَتِلْكَ أَمْ سَيْفٌ مُّبِيدٌ جُرِّدَا سورج ایک رعب ناک شکل میں سپاہیوں کی طرح ظاہر ہوا۔کیا یہ سورج ہے یا ایک تلوار ہے جو کھینچی گئی ؟ سَقَطَتْ عَلَى رَأْسِ الْمُخَالِفِ صَخْرَةٌ كَالسَّمْهَرِيَّةِ شَجَّهُ أَوْ كَالْمُدَى مخالف کے سر پر ایک پتھر پڑا۔جس نے نیزے کی طرح یا کا ردوں کی طرح اس کے سر کو تو ڑ دیا۔إِنَّاصَفَحْنَا عَنْ تَفَاحُشِ قَوْلِهِ قُلْنَا جَهُولٌ قَدْ هَدَى مُتَجَدِّدَا ہم نے اس کی بد گوئی سے اعراض کیا۔ہم نے کہا کہ ایک بے وقوف ہے۔جوشتاب کاری سے بک رہا ہے۔لَكِنْ مُؤيّدُنَا الَّذِي هُوَنَاظِرْ مَاشَاءَ أَنْ يُؤْذِي الْعَبِيطُ مُؤَيَّدَا مگر وہ مؤید جودیکھ رہا ہے۔اس نے نہ چاہا جو ایک دروغگو اس کے تائید یافتہ کو دکھ دیوے۔نَصْرٌ مِّنَ اللهِ القَرِيبِ بِفَضْلِهِ إِنَّ الْمُهَيْمِـنَ لَا يُؤَخِّرُ مَوْعِدَا یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد ہے جو قریب ہے۔خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کو پس انداز نہیں کرتا۔قُضِيَ النِّزَاعُ وَشَاهِدَانِ تَظَاهَرَا لِيُبَكِّتَ الْمَوْلَى الدَّ وَ أَسْمَدَا فیصلہ ہو گیا اور دو گواہوں نے گواہی دی جو ایک دوسرے کو قوت دیتے ہیں۔تا خدا تعالیٰ ایک بڑے جھگڑ الواور متکبر کوملزم کرے۔قَمَرٌ كَمِثْلِ حَمَامَةٍ بِدَلَالِهِ شَمْسٌ بِتَبْشِيرٍ تُشَابِهُ هُدَهُدَا چاند اپنے ناز میں کبوتر کی طرح ہے۔آفتاب بشارت دینے میں ہد ہد سے مشابہ ہے۔قَطَعَاتُهَا تَهْدِى الْقُلُوبَ كَأَنَّهَا زُبُرٌ تُجِدُّ نُقُوشَ شَمْسٍ مُّـ اس کے ٹکڑے دلوں کو ہدایت کرتے ہیں گویا وہ کتا بیں ہیں جو ہمارے آفتاب یعنی رسول اللہ صلعم کے نقشوں کو تازہ کرتے ہیں۔أَوْمِثْلُ وَاشِمَةٍ أُسِفَّ نَعُوْرُهَا خَدَّاكَـمَخْدُودٍ وَّ وَجْهَا أَغْيَدَا یا اس عورت نگار بند کی طرح جس کا نقش کرنے کا دھواں۔اس رخسار پر ر کا گیاجو بوجہ نشان نقش داغ دار رخسار کی طرح ہواور نرم منہ پر پر کا گیا ہے۔يَا أَيُّهَا الْمُتَجَرِّمُونَ بِعُجُلَةٍ حَسَدًا تَجَرَّمَ غَيْمُكُمْ وَ تَقَدَّدَا اے وے لوگو! جو شتاب کاری اور حسد سے باطل الزام لگاتے ہو تمہارا بادل نابود ہو گیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔مقدا