القصائد الاحمدیہ — Page 150
وَوَاللَّهِ إِنَّ الْيَوْمَ يَوْمٌ مُّبَارَكٌ يُذَكِّرُنَا أَيَّامَ نَصْرِ الْمُهَيْمِنِ اور بخدا یہ دن مبارک دن ہے۔جو ہمیں خدا تعالیٰ کی مدد کا زمانہ یاد دلاتا ہے۔وَهذَا عَطَاءٌ مِّنْ قَدِيرٍ مُّكَوّنٍ وَفَضْلٌ مِّنَ اللَّهِ النَّصِيرِ الْمُهَوِّنِ اور یہ اس قادر کی عطا ہے جو نیست سے ہست کرنے والا ہے۔اور یہاس اللہ کا فضل ہے جو دگار اور مشکلات کو آسان کرنے والا ہے۔فَفَاضَتْ دُمُوعُ الْعَيْنِ مِنِّى تَأْثرًا إِذَامَا رَأَيْتُ حَنَانَ رَبِّ مُحْسِنِ سومتا ثر ہونے کی وجہ سے میرے آنسو جاری ہو گئے۔جبکہ میں نے خدائے محسن کی یہ بخشایش دیکھی۔قَدِ انْكَسَفَتْ شَمْسُ الضُّحَى لِصِيَاءِ نَا لِيَظْهَرَ ضَوْءُ ذُكَائِنَا عِنْدَ مُمْعِن سورج ہماری روشنی کے لئے کسوف پذیر ہوا۔تا کہ ہمارے آفتاب کی روشنی ان لوگوں پر ظاہر ہو۔تَرى أَنْوَارَ الدِّينِ فِي ظُلُمَاتِهَا وَلُمَّاتِهَا كَأَنَّهَا أَرْضُ مَخْزَنِ و اس کی تاریکی میں دین کے نور دیکھتا ہے اور ایسا ہی اس کے اس حادثہ میں جواس پر پڑ رہاوہ ایس ویرانہ ساہوگیا ہے جیسا کہ ویرانہ زمین ہوتی ہے جسکے نیے خزانہ ہو۔وَلَيْسَ كُسُوفًا مَاتَرى مِثْلَ عَنْدَمٍ بَلِ احْمَرَّوَجُهُ الشَّمْسِ غَضَبًا عَلَى الدَّنِي اور یہ کسوف نہیں جو دم الاخوین کی طرح تجھے نظر آتا ہے۔بلکہ ایک کمینہ پر غصہ کرنے کی وجہ سے سورج کا چہرہ سرخ ہو گیا۔وَحُمْرَتُهَا غَيْظٌ تَرَى فِي خَدِّهَا عَلَى جَهَلَاتِ الْقَوْمِ فَانْظُرُ وَامْعِنِ اور اس کی سرخی ایک غصہ ہے جو اس کے رخساروں میں نمو دار ہے۔اور یہ غصہ قوم کی بیہودگیوں پر ہے پس دیکھا اور غور سے دیکھ۔ظَلامٌ مُّنِيْرٌ يَمْلَأُ الْعَيْنَ قُرَّةَ وَيَسْقِي عِطَاشَ الْحَقِّ كَأْسَ التَّيَقُنِ ایک روشن کرنے والا اندھیرا ہے جو آنکھ کو ٹھنڈک کے ساتھ پر کر دیتا ہے۔اور حق کے طالبوں کو یقین کے پیالے پلاتا ہے۔وَلَوْ قَبْلَ رُؤْيَتِهِ آنَابَ مُخَالِفِى لَهُدِي إِلَى الْأَسْرَارِ قَبْلَ التَّفَكُنِ اور اگر اس سے پہلے میر امخالف حق کی طرف رجوع کرتا۔تو شرمندہ ہونے سے پہلے حقانی بھیدوں کو پالیتا۔وَلَكِنَّهُ عَادَى وَقَفَّلَ قَلْبَهُ فَقُلْنَا اهْلِكَنُ فِي جَهْلِكَ الْمُتَمَكِّنِ مگر اس نے حق سے مخالفت کی اور اپنے دل کو مقفل کر دیا۔سو ہم نے کہا کہ اپنے مستحکم جہل میں مرجا۔