القصائد الاحمدیہ — Page 133
۱۳۳ إِنِّى أَرَاهُمْ كَالْبَنِينَ لِغُوْلِهِمْ إِنَّ التَّطَهُرَ لَا تَحُلُّ بِخَانِهِمْ میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے ابلیس کے لئے بطور بیٹوں کے ہیں اور پاکیزگی ان کے کاروان سرائے میں نہیں اترتی۔كَيْفَ الرَّجَاءُ وَقَدْ تَأَبَّطَ قَلْبُهُمْ شَرًّا أَرَاهُ دَخِيلَ جَذْرِ جَنَانِهِمْ جَذْرِجَـنَـانِهِمْ کیونکر امید کریں حالانکہ ان کے دل شرارت کو اپنی بغل میں لئے بیٹھے ہیں اور وہ شرارت ان کے دلوں کے اندر گھسی ہوئی ہے۔بَلْ كَذَّبُوا بِالْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمُ وَتَمَايَلُوْا حِقْدًا عَلَى بُهْتَانِهِمْ بلکہ جب حق ان کے پاس آیا تو انہوں نے تکذیب کی اور کینہ سے اپنے بہتانوں کی طرف جھک پڑے۔وَكَمْ مِنْ سُمُوْمٍ هَبَّ عِنْدَ ظُهُورِهِمْ كَمْ مِنْ جَهُولٍ صِيْدَ مِنْ اَرْسَانِهِمْ ان کے ظاہر ہونے سے بہت سی گرم ہوائیں چلی ہیں اور ان کی رسیوں سے بہت جاہل شکار ہو گئے۔هُمُ انْكَرُوْا بَحْرَ الْعُلُومِ بِخُبُثِهِمْ وَاسْتَغْزَرُوا مَا كَانَ فِي كَيْزَانِهِمْ انہوں نے اپنے محبت سے علموں کے دریا سے انکار کیا اور جو کچھ ان کے پیالوں میں تھا ان کو بہت کچھ سمجھا۔لَا يَعْلَمُ النُّوكَى دَخِيْلَةَ أَمْرِهِمْ مِنْ غَيْرِ رِقَتِهِمْ وَلِيْنِ لِسَانِهِمْ بے وقوف لوگ ان کی اصل حقیقت کو نہیں جانتے بس اسی قدر جانتے ہیں کہ وہ زبان کے نرم ہیں۔وَاللَّهِ لَوْلَا ضَنْكَ عَيْشِ مُّقْلِقٌ مَا مَالَ مُرْتَدُّ إِلَى أَدْيَانِهِمْ اور بخدا! اگر تنگی رزق کسی کو تکلیف نہ دیتی تو کوئی مرتد ان کے دین کی طرف میل نہ کرتا قَدْ جَاءَ هُمْ قَوْمٌ بِحِرْصِ لَبَانِهِمْ وَلِيَنْفُضَنُ مَا كَانَ فِي أَرْدَانِهِمْ ایک قوم ان کے دودھ کی حرص سے ان کے پاس آئی تاکہ وہ جو کچھ ان کی آستینوں میں ہے جھاڑ لیں۔كَانُوا كَذِتُبِ الْبَرِّ مَكْلُوْمَ الْحَشَا مِنْ جُوْعِهِمْ فَسَعَوْا إِلَى عُمْرَانِهِمْ وہ جنگل کے بھیڑیے کی طرح بھوک سے خستہ اندرون تھے پس وہ ان کی آبادی کی طرف دوڑے۔قَوْمٌ سَقُوْا كَأْسَ الْحُتُوفِ بِوَعْظِهِمْ قَوْمٌ خَرُوفٌ فِي يَدَى سِرْحَانِهِمْ ایک قوم نے تو موت کے پیالے ان کے وعظ سے پیا لئے اور ایک دوسری قوم برہ کی طرح اس بھیڑیے کے ہاتھوں میں ہے۔