القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 131

۱۳۱ قَدْ عُودِرَ الْإِسْلَامُ مِنْ جَهَلَاتِهِمْ وَخَلَتْ أَمَاعِزُّ عَنْ سَحَابٍ مُّمْطِرِ عوام نادان نے ان کے باطل وساوس سے اسلام کو ترک کر دیا اور وہ پتھریلی زمین برسنے والے بادل سے محروم رہ گئی۔شَاقَتْ قُلُوبَ النَّاسِ ظُعُنُ جِيَاءِ هِمُ فَتَابَطُوْا بُـرَحَاءَ هُمُ بِتَخَيْرِ لوگوں کے دلوں کو ان ہو درج نشینوں نے شوق دلایا جوان کی ہنڈیوں کے سر پوش کے اندر تھیں سوانہوں نے ان کی بلا کو دیدہ دانستہ بغل میں لے لیا۔زُجَلٌ عَمُوْنَ مُنَحِسُوْعَرَصَاتِنَا فَجِنَتْ طَوَائِحُهُمْ كَذِتُبٍ مُّبْكِرٍ اندھی جماعتیں ہیں جو ہمارے ملک کو پلید کر رہی ہیں ان کے حوادث ناگاہ ہم پر پڑے اور وہ ایسے آئے جیسا کہ بھیڑ یا فجر کے وقت شکار کے لئے نکلتا ہے۔وَ الْعَيْنُ بَاكِيَةٌ وَلَيْسَ بُكَاءُنَا شَيْئًا سِوَى الْفَضْلِ الْمُنِيرًا لمُسْفِرِ آنکھ تو رورہی ہے مگر ہمارا رونا کچھ حقیقت نہیں رکھتا بجز اس فضل کے جو روشن کرنے والا اور صبح کے وقت آنے والا ہے۔اِنَّ الْبَلَايَا لَا يَرُدُّ رِكَابَهَا إِلَّا يَدَا مَلِكِ قَدِيرِ اكْبَرِ بلاؤں کے اونٹ سواروں کو کوئی رد نہیں کر سکتا مگر اُس بادشاہ کے دونوں ہاتھ جو قد سر اور اکبر ہے۔إِنَّ الْمُهَيْمِـنَ لَا يُضِيعُ عِبَادَهُ فَافْرَحُ وَلَا تَحْزَنُ بِوَقْتٍ مُّضْجِرٍ خدا اپنے بندوں کو ضائع نہیں کرے گا سو تو خوش ہو اور ایسے وقت میں جو دل کو تکلیف دینے والا ہے س غمگین مت ہو۔نور الحق جلد اول۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۱۱۹ تا ۱۲۱)