القصائد الاحمدیہ — Page 130
يَا غُولَ بَادِيَةِ الضَّلَالَةِ وَالْهَوَى تَهْذِى هَوًا مِنْ غَيْرِ عَيْنِ تَبَصُّر اے گمراہی اور حرص کے جنگل کے شیطان ! تو محض ہوا پرستی سے بکواس کر رہا ہے اور معرفت کی آنکھ تجھ کو حاصل نہیں۔قَطَّعْتَ قَلْبَ الْمُسْلِمِينَ جَمِيعِهِمُ كَمْ صَارِمٍ لَّكَ يَا عَبِيطُ وَ خَنْجَرِ تو نے تمام مسلمانوں کا دل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اسے در ونکو جنگجو! ہمیں یہ و بتلا کہ تیرے پاس کتنی تلواریں اور خنجر ہیں؟ إِنَّا تَصَبَّرْنَا عَلَى إِيْدَائِكُمْ وَالنَّفْسُ صَارِحَةٌ وَّ لَمْ تَتَصَبَّرِ ہم نے تمہارے دکھ دینے پر بتکلف صبر کیا مگر جان فریاد کر رہی ہے اور صبر نہیں کرسکتی۔إِنَّا نَرى فِتَنَّا تُذِيبُ قُلُوْبَنَا إِنَّا نَرَى صُوَرًا تَهُولُ بِمَنْظَر ہم وہ فتنے دیکھ رہے ہیں جو دلوں کو گلاتے ہیں۔ہم وہ منہ دیکھ رہے ہیں جو ہمیں ڈراتے ہیں۔جَاءُ وُا كَمُفْتَرِسٍ بِنَابٍ دَاعِسٍ دَحْسًا كَكَلْبٍ نَّابِحٍ مُّتَشَذِرِ وہ ایک شکار مارنے والے کی طرح نیزہ مارنے والے دانتوں کے ساتھ آئے قوم میں تفرقہ ڈالنے والے ہیں اس کتے کی طرح جو آواز کرتا اور حملہ کرنے کے لئے اپنی دم اکٹھی کر لیتا ہے كَانُوا ذِيَابًا ثُمَّ وَجَدُوا سَخْلَةٌ فِى الْبَرِّ مُنْفَرِدًا أَسِيْرَ تَحَسُّرِ وہ تو بھیڑیئے تھے سو انہوں نے جنگل میں ایک اکیلا بہ پایا جو ماندگی کا مارا ہوا تھا۔وَ تَرى بُطُونَ الْمُفْسِدِينَ كَأَنَّهَا قِرَبِّ بِمَا نَالُوا كَمَالَ تَعَجُرِ اور مفسدوں کے پیٹوں کو تو دیکھتا ہے کہ گویا وہ مشکیں ہیں کیونکہ پیٹ اتنے بڑھ گئے کہ ان میں بل پڑتے ہیں۔حَاذَتْ مَطَايَاهُمْ عَلَى أَعْنَاقِنَا حَتَّى تَكَسَّرُنَا كَعَظْمِ انْخَرِ انہوں نے اپنی سواریوں کو ہماری گردنوں پر سخت دوڑایا یہاں تک کہ ہم بوسیدہ ہڈی کی طرح ہو گئے۔فَاضَ الْعُيُونُ مِنَ الْعُيُونِ كَأَنَّهَا مَاءً جَرَى مِنْ عَندَمٍ مُّتَعَصِرٍ آنکھوں سے چشمے جاری ہو گئے گویا کہ وہ دم الأخوین کا پانی ہے جو اس کے نچوڑنے کے وقت ٹپک رہا ہے۔فَنَهَضْتُ أَنْصَحُهُمْ وَكَيْفَ نَصَاحَتِي قَوْمًا أَوَابِدَ مُعْجَبِينَ كَضَيْطَرِ پس میں گالیاں دینے والوں کونصیحت کرنے کے لئے اٹھا اور میر نصیحت دینا ایسی قوم کو کیا فید ہوسکتا تھا جو اک وحشی و خود بین اور فرومایہ اوربے خبر دی کی طرح ہے۔