القصائد الاحمدیہ — Page 4
أَمَّا النِّسَاءُ فَحُرِّمَتْ إِنْكَاحُهَا زَوْجًا لَّهُ التَّحْرِيمُ فِي الْقُرْآن عورتوں سے متعلق تو یہ حکم ہوا کہ ان کا نکاح ایسے خاوند سے جس کی حرمت قرآن میں آگئی، حرام کر دیا گیا۔وَ جَعَلْتَ دَسُكَرَة الْمُدَامِ مُخَرَّبًا وَأَزَلْتَ حَانَتَهَا مِنَ الْبُلْدَانِ اور تونے کے خانوں کو ویران کر دیا اور شہروں سے شراب کی دکانیں ہٹا دیں۔كَمُ شَارِبِ بِالرَّشْفِ دَنَّا طَافِحًا فَجَعَلْتَهُ فِي الدِّينِ كَالنَّشْوَانِ بہت سے تھے جو لبالب خم لنڈھا جاتے تھے سوٹو نے ان کو دین میں متوالے بنادیا۔كُمْ مُحْدِثٍ مُسْتَنْطِقِ الْعِيْدَانِ قَدْ صَارَ مِنْكَ مُحَدَّثَ الرَّحْمَانِ کتنے ہی بدعتی سارنگیاں بجانے والے تیرے طفیل خدائے رحمان سے ہم کلام ہو گئے۔كَمْ مُسْتَهَامٍ لِلرَّسُوْفِ تَعَشُّقًا فَجَذَبْتَهُ جَذْبًا إِلَى الْفُرْقَانِ بہتیرے معطر دہن عورتوں کے عشق میں سرگرداں تھے سوٹو نے انہیں فرقان کی طرف کھینچ لیا۔أَحْيَيْتَ أَمْوَاتَ الْقُرُونِ بِجَلُوَةٍ مَاذَا يُمَائِلُكَ بِهَذَا الشَّانِ تو نے صدیوں کے مُردوں کو ایک ہی جلوہ سے زندہ کر دیا۔کون ہے جو اس شان میں تیرا مثیل ہو سکے؟ تَرَكُوا الْغَبُوقَ وَبَدَّلُوا مِنْ ذَوقِهِ ذَوقَ الدُّعَاءِ بِلَيْلَةِ الْأَحْزَانِ انہوں نے شام کی شراب چھوڑ دی اور اس کی لذت کو غم کی راتوں میں دعا کی لذت سے بدل دیا۔كَانُوا بِرَنَّاتِ الْمَثَانِي قَبْلَهَا قَدْ اُحْصِرُوا فِي شُحِهَا كَالْعَانِي وہ اس سے پہلے دو تارے کی سُروں کی حرص میں قیدیوں کی طرح گرفتار تھے۔قَدْ كَانَ مَرْتَعُهُمُ أَغَانِى دَائِمًا طَوْرًا بِغِيْدِ تَارَةً بِدِنَانِ ان کے عیش وعشرت کا میدان ہمیشہ ہی راگ و رنگ تھا۔کبھی تو نازک اندام عورتوں سے شغل کرتے اور کبھی شراب کے مٹکوں سے۔