القصائد الاحمدیہ — Page 5
مَا كَانَ فِكَرْ غَيْرَفِكْرِغَوَانِي أَوْ شُرْبِ رَاحٍ أَوْ خَيَالِ جِـفَــان انہیں حسین عورتوں کے سوا اور کوئی فکر نہ تھی یا پھر وہ شراب نوشی میں مصروف رہتے یا شراب کے پیالوں کے تصور میں محو ہوتے۔كَانُوا كَمَشْعُرُفِ الْفَسَادِ بِجَهْلِهِمُ رَاضِينَ بِالَّا وُسَاحَ وَالْأدْرَانِ وہ اپنے اکھڑ پن کی وجہ سے فساد کے شیفتہ تھے اور میل کچیل اور ناپاکی پر خوش تھے۔عَيْبَانِ كَانَ شِعَارَهُمْ مِنْ جَهْلِهِمْ حُمْقُ الْحِمَارِ وَ وَثُبَةُ السِّرْحَانِ ان کی جہالت کی وجہ سے دو عیب ان کے لازم حال تھے یعنی گدھے کی اڑ اور بھیڑیے کا حملہ۔فَطَلَعْتَ يَا شَمْسَ الْهُدَى نُصْحالَهُمْ لِتُضِيْنَهُمُ مِنْ وَجْهِكَ النُّوْرَانِي سواے آفتاب ہدایت! تو نے ان کی خیر خواہی کے لئے طلوع کیا تا اپنے نورانی چہرہ سے تو انہیں منور کر دے۔أُرْسِلْتَ مِنْ رَّبِّ كَرِيمٍ مُّحْسِنِ فِي الْفِتْنَةِ الصَّمَّاءِ وَالطَّغْيَانِ تو رب کریم محسن کی طرف سے خوفناک فتنے اور طغیان وسرکشی کے وقت بھیجا گیا۔يَالَلُفَتَى مَا حُسْنُهُ وَجَمَالُهُ رَيَّاهُ يُصْبِى الْقَلْبَ كَالرَّيْحَان واہ ! کیا ہی جوان مرد ہے! کیسے حسن و جمال والا ہے! جس کی خوشبو دل کو ریحان کی طرح موہ لیتی ہے۔وَجُهُ الْمُهَيْمِنِ ظَاهِرٌ فِي وَجْهِهِ وَشُنُونُهُ لَمَعَتْ بِهَذَا الشَّانِ آپ کے چہرہ میں خدا کا چہرہ نمایاں ہے اور خدا کی صفات ( آپ کی ) اس شان سے جلوہ گر ہوگئیں۔فَلِذَا يُحَبُّ وَيَسْتَحِقُّ جَمَالُهُ شَغَفَا بِهِ مِنْ زُمْرَةِ الْأَخْدَانِ سواسی لئے تو آپ سے محبت کی جاتی ہے اور آپ کا ہی جمال اس لائق ہے کہ دوستوں کے گروہ میں سے صرف آپ ہی سے بے پناہ محبت کی جائے۔سُجُحْ كَرِيمٌ بَاذِلٌ خِلُّ التَّقَى خِرْقَ وَفَاقَ طَوَائِفَ الْفِتْيَانِ آپ خوشی خلق ، معزز سخی، تقوی کے بچے دوست فیاض اور جواں مردوں کے گروہوں پر فوقیت رکھنے والے ہیں۔