القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 125

۱۲۵ خُمُورِى مُنتَقَاةٌ غَيْرُ كَدْرٍ مُشَعْشَعَةٌ بِمَاءِ الْاِقْتِرَانِ اور میری شراب ایک چھنی ہوئی شراب اور مصفا ہے جس میں الہی محبت کا پانی ملایا گیا ہے۔وَ لَسْتُ مُوَارِيَّا عَنْ عَيْنِ رَبِّي وَإِنَّ اللَّهَ خَلاقِي يَرَانِي اور میں اپنے رب کی آنکھ سے پوشیدہ نہیں ہوں اور خدا جو میرا پروردگار ہے مجھے دیکھ رہا ہے۔يُدَهُدِءُ رَأْسَ كَذَّابٍ غَيُورٌ وَيُهْلِكُهُ كَصَيْدٍ مُّسْتَهَانِ وہ جھوٹے کے سرکو خاک میں رولاتا ہے کیونکہ غیرتمند ہے اور اس کو اس شکار کی طرح ہلاک کرتا ہے جو سراسیمہ اور سرگرداں ہو۔وَإِنَّا النَّاظِرُونَ إِلى قَدِيرٍ قَرِيبٍ قَادِرٍ حِـتٍ مُدَانِـي اور ہم اس قدیر کی طرف دیکھ رہے ہیں جو قریب اور قادر ہے اور جو بندہ اور اس کے دل میں حائل ہو جاتا ہے۔وَ إِنَّا الشَّارِبُونَ كُنُوسَ جِةٍ وَإِنَّا الْكَاسِرُونُ فُنُوسَ خَانِـي اور ہم پر حکمت باتوں کے پیالے پی رہے ہیں اور ہم فضول گو کے تیروں کو توڑ رہے ہیں۔وَإِنَّا الْوَاصِلُونَ قُصُورَ مَجْدٍ وَإِنَّا الْفَاصِلُوْنَ مِنَ الْآدَانِي اور ہم بزرگی کے محلوں تک پہنچ گئے ہیں اور ہم نے ادنی لوگوں سے جدائی اختیار کر لی ہے۔وَأَبْدَرَنَا مِنَ الرَّحْمَان بَدْرٌ فَنَحْنُ الْمُبْدِرُونَ وَ لَا نُمَانِي اور ہمارے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک چاند نکلا ہے سو ہم چاند کو پانے والے ہیں اور انتظار ہی کرنے والے نہیں۔وَنَحْنُ الْفَائِزُونَ كَمَالَ فَوْزِ وَنَحْنُ الْمُنْعَمُونَ وَلَا نُعَانِي اور ہم کمال کا میابی تک پہنچ گئے ہیں اور ہم نعمتوں میں وقت بسر کرتے ہیں اور خنی نہیں اٹھاتے۔وَبَارَزْنَا الْعِدَا مُتَسَلِحِينَا وَلَسْنَا قَاعِدِينَ كَمِثْلِ وَانِي اور ہم مسلح ہو کر مخالفوں کے مقابل پر کھڑے ہو گئے ہیں ایک ست آدمی کی طرح بیٹھنے والے نہیں ہیں۔وَمَا جِئْنَا الْوَرَى فِي غَيْرِ وَقْتٍ وَ ذُو حِجْرٍ يَّرَى وَقتَ الرَّثَانِ اور ہم خلق اللہ کے پاس بے وقت نہیں آئے اور عقلمند جانتا ہے کہ بارش کا وقت کونسا ہے۔