القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 121

۱۲۱ وَ أَيْنَ يَكُونُ لِلْقُرآن مِثْلٌ وَلَيْسَ لَهُ بِهَذَا الْفَضْلِ قَانِي اور قرآن کی مثال کوئی دوسری چیز کیوں کر ہو کیونکہ وہ تو اپنے فضائل میں بے مثل ہے۔وَرِثْنَا الصُّحُفَ فَاقَتْ كُلَّ كُتُبِ وَسَبَقَتْ كُلَّ أَسْفَارٍ بِشَأْنِ ہم اس کتاب کے وارث بنائے گئے جو سب کتابوں پر فائق ہے ایسی کتاب جو اپنے کمالات میں تمام کتابوں پر سبقت لے گی ہے۔وَجَاءَتْ بَعْدَ مَاخَرَّتْ خِيَامٌ وَحُرِّبَتِ الْبُيُوتُ مَعَ الْمَبَانِي اور اس وقت آئی جب کہ سب پہلے خیمے منہ کے بل گر چکے تھے اور تمام گھر مع بنیاد کی جگہوں کے خراب ہو چکے تھے۔مَحَتْ كُلَّ الطَّرَائِقِ غَيْرَ بِرِّ وَجَدَّتْ رَأْسَ بِدْعَاتِ الزَّمَانِ ہر یک راہ کو بغیر نیکی کے راہ کے معدوم کر دیا اور ان تمام بدعتوں کا سرکاٹ دیا جو زمانہ میں شائع تھیں۔كَأَنَّ سُيُوفَهَا كَانَتْ كَنَارٍ بِهَا حُرِقَتْ مَخَارِيقُ الْآدَانِي گویا اس کی تلوار میں ایک آگ کی طرح تھیں ان سے وہ تمام گد کے جل گئے جو سفلہ لوگوں کے ہاتھ میں تھے۔إِذَا اسْتَدْعَى كِتَابُ اللهِ مِثلًا فَعَيَّ الْقَوْمُ وَاسْتَتَرُوا كَفَانِي جب کتاب اللہ نے اپنی مثل کا مطالبہ کیا تو قوم مقابلہ سے عاجز ہوگئی اور فنا شدہ چیز کی طرح چھپ گئی۔وَ سُلِبَتْ جُرْعَة الْإِسْنَافِ مِنْهُمْ مِنَ الْهَوْلِ الَّذِي حَلَّ الْجَنَانِ اور پیش قدمی کی ہمت ان سے مسلوب ہوگئی اور یہ ہیبت الہی تھی جو ان کے دل میں بیٹھ گئی۔فَمِنْ عَجَبٍ أَكَبُوا مِثْلَ مَيْتٍ وَقَدْ مَرَنُوا عَلَى لُطْفِ الْبَيَانِ سو یہ تعجب کی بات ہے کہ وہ مردہ کی طرح منہ کے بل جا پڑے حالانکہ وہ فصیح کلمات کی مشق اور عادت رکھتے تھے۔وَ اَنْزَلَهُ مُهَيْمِنُنَا حُدَيًّا فَفَرُوا كُلُّهُمْ كَالْمُسْتَهَانِ اور خدا تعالیٰ نے اس کو بے مثیل اور طالب معارض نازل کیا پس کفار اس کی مثل بنانے پر قادر نہ ہو سکے اور سر گرداں ہوکر بھاگ گئے۔وَ صَارَتْ عُصْبُهُمْ فِرَقَاثُبِينًا فَمِنْهُمْ مَنْ أَتَى بَعْدَ الْحَرَانِ اور ان کی جماعتیں کئی فرقے متفرق ہو گئے پس بعض ان میں سے تو سرکشی سے باز آ گئے۔