القصائد الاحمدیہ — Page 120
۱۲۰ وَاثَرْتُمْ آمَاعِزَ ذَاتَ صَخْرٍ عَلَى مُخْضَرَّةٍ قَاعٍ هِـجَـانِ اور تم نے کنکریوں اور بڑی پتھروں والی زمین جو بہت سخت ہے اختیار کی اور ایسی زمین کو چھوڑ اجو پر سبزہ اور نم اور نہایت عمدہ اور قابل زراعت ہے۔وَ مَا الْقُرْآنُ إِلَّا مِثْلَ دُرَرٍ فَرَائِدَ زَانَهَا حُسْنُ الْبَيَانِ اور قرآن در حقیقت بہت عمدہ اور یکدانہ موتیوں کی طرح ہے جو حسن بیان سے اور بھی اس کی زینت اور خوبصورتی نکلی ہے۔وَ مَا مَسَّتْ اَكُقُ الْكَاشِحِيْنَا مَعَارِفَهُ الَّتِي مِثْلَ الْحَصَانِ اور دشمنوں کی ہتھیلیاں ان معارف کو چھوٹی بھی نہیں جو قرآن میں ایسے طور پر چھپے ہوئے ہیں جیسے پردہ نشین پارسا عورت چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ه مَا شِنتَ مِنْ عِلْمٍ وَعَقْلٍ وَاَسْرَارٍ وَّ اَبْكَارِ الْمَعَانِي اس میں ہر یک وہ علم اور عقل ہے جس کا تو طالب ہے اور انواع اقسام کے بھید اور نئی صداقتیں اس میں بھری ہیں۔يُسَكِتُ كُلَّ مَنْ يَعْدُو بِضِغْنِ يُبَكِّتُ كُلَّ كَذَّابٍ وَجَانِـي ہر یک ایسے دین کامنہ بندکرتا ہے جوخالفانہ طور پردوڑ پڑتا ہے اورہر یک ایسے شخص پر اتمام حجت کرتا ہے جو دروغ گو اور گناہ گار ہے۔رَأَيْنَا دَرَّ مُزْنَتِهِ كَثِيرًا فَدَيْنَا رَبَّنَا ذَا الْإِمْتِنَان ہم نے اس کے مینہ کا پانی بہت ہی دیکھا ہے سو ہم اس خدا پر قربان ہیں جس نے ایسے احسان کئے۔وَ مَا أَدْرَاكَ مَا الْقُرْآنُ فَيْضًا خَفِيرٌ جَالِبٌ نَحْوَ الْجِنَانِ اور تو کچھ جانتا ہے کہ قرآن فیض کے رو سے کیا شے ہے وہ ایک راہبر ہے جو بہشت کی طرف کھینچتا ہے۔لَهُ نُوْرَانِ نُوْرٌ مِنْ عُلُوْمٍ وَنُوْرٌ مِنْ بَيَانِ كَالْجُمَانِ اس میں دونو ر ہیں ایک تو علوم کا نور اور دوسرے فصاحت اور بلاغت کا نور جودا نہ نقرہ کی طرح چمکتا ہے۔كَلَامٌ فَائِقٌ مَّا رَاقَ طَرْفِي جَمَال بَعْدَهُ وَالنَّيْرَانِ وہ ایک ایسا کلام ہے جو ہر یک کلام سے فوقیت لے گیا اور اس کے بعد مجھے کوئی جمال اچھا معلوم نہ ہوا اور آفتاب اور قمر بھی اچھے دکھائی نہ دیئے۔آيَاةُ الشَّمْسِ عِنْدَسَنَاهُ دَخُنُ وَمَالِلعَلِ وَالسِّبْتِ الْيَمَانِي آفتاب کی روشنی اس کی چمک کے آگے ایک دھواں سا ہے اور عمل سے نرمی کے سرخ چمڑے کو نسبت ہی کیا ہے گویمن کی ساخت ہو۔