القصائد الاحمدیہ — Page 119
۱۱۹ سَعَوْا أَنْ يَجْعَلُوا أَسْدًا نِعَاجًا وَلَيْتُ اللَّهِ لَيْتْ لَا كَضَأْن انہوں نے کوشش کی کہ تا کسی طرح شیروں کو بھیڑیں بنائیں اور شیر شیر ہی ہیں وہ بھیٹر کی طرح نہیں ہو سکتے۔وَ وَثَبَتُهُمْ كَسِرْحَانٍ ضَرِي وَصُورَتُهُمْ كَذِى حُةٍ مُّقَانِـي اور ان لوگوں کا حملہ اسی بھیڑیے کی طرح ہے جو شکار کا طالب ہے اور صورت ان کی ایک ملنسار دوست کی طرح ہے۔وَبَاطِنُهُمْ كَجَوْفِ الْعَيْرِ قَفْرٌ مِّنَ التَّقْوَى وَ بَطْنٌ كَالْجِفَانِ اور اندران کا گدھے کے پیٹ کی طرح تقوی سے خالی اور پیٹ ان پیالوں کی طرح ہے جو کھانے سے بھرے ہوئے ہوں۔أَرى وَغَلًا جَهُولًا وَابْنَ وَغُلٍ يُرِى كَالْمُرْهَـفَـاتِ لَظَى اللَّسَانِ میں ایک خسیس ابن خسیس جاہل کو دیکھتا ہوں جو تیز تلواروں کی طرح اپنی زبان کا شعلہ دکھاتا ہے۔هَرِيرُ الْكَلْبِ لَا يَحْقُوبِنَبْحٍ عَلَى الْبَدْرِ الْمُطَهَّرِ مِنْ عُتَانِ کتنے کی آواز اس چاند پر خاک نہیں ڈال سکتی جس کو خدا نے گردوغبار اور دھوئیں سے پاک پیدا کیا ہے۔اَلَايَا أَيُّهَا اللَّـحِـرُ الشَّحِيحُ هَوَيْتَ كَذِي اللُّبَانَةِ فِي الْهَوَانِ اے بخیل بدخلق اور حریص تو محتاجوں کی طرح ذلت کے گڑھے میں گر گیا۔وَمَا تَدْرِى الْهُدَى وَحَمَلْتَ جَهْلاً اَنَاجِيلَ النَّصارى كَالاتان اور تو نہیں جانتا کہ ہدایت کیا شے ہے اور محض جہل سے تو نے انجیلوں کو اٹھا لیا جیسا کہ ایک گدھی بھاراٹھاتی ہے۔تُنَضْرِضُ مِثْلَ نَضْنَضَةِ الْآفَاعِى وَتَهْذِي مِثْلَ عَادَاتِ الْآدَانِي اور تو اس طرح زبان ہلاتا ہے جیسے سانپ اور کمینوں اور سفلوں کی طرح بکواس کرتا ہے۔هَلُمَّ إِلى كِتَابِ اللهِ صِدْقًا وَإِيْمَانًا بِتَصْدِيقِ الْجَنَانِ خدا کی کتاب کی طرف صدق اور دلی ایمان سے آجا۔شَغَفْتُمْ أَيُّهَا النُّوْكَى بِشَوْكِ وَأَعْرَضْتُمْ عَنِ الزَّهْرِ الْحِسَانِ بے وقوفو! تم کانٹوں پر فریفتہ ہو گئے اور خوبصورت پھولوں سے کنارہ کیا۔