القصائد الاحمدیہ — Page 109
1+9 تَضَوَّعَ إِيْمَانِى كَمِسْكِ خَالِصٍ وَقَلْبِى مِنَ التَّوْحِيدِ بَيْتٌ مُعَطَّرُ میرا ایمان خالص کستوری کی طرح مہک پڑا ہے اور میرا دل تو حید کی وجہ سے ایک معطر گھر بنا ہوا ہے۔وَ فِي كُلّ أَن يَأْتِيَنُ مِنْ خَالِقِى غِذَائِي نَمِيرُ الْمَاءِ لَا يَتَغَيَّرُ اور ہر لحظہ میرے پاس آ رہی ہے میرے خالق کی طرف سے میری غذا جو ایسا خالص مصفا پانی ہے جو تغیر پذیر نہیں ہوتا۔تُضِيءُ الطَّلَامَ مَعَارِفِي عِنْدَ مَنْطِقِى وَقَوْلِى بِفَضْلِ اللَّهِ دُرٌ مُّنَوَّرُ میری گفتگو کے وقت میرے معارف ظلمت کو روشنی سے بدل دیتے ہیں اور میرا قول اللہ کے فضل سے روشن موتی ہے۔إِلَى مَنْطِقِى يَرُنُو الْفَهِيمُ تَعَشُّقًا وَيُزَعِجُ نُطْقِى كُلَّ وَهُم وَ يَجْذَرُ میری گفتگو کی طرف ہر فہیم عاشقانہ رنگ میں نظر جمائے رکھتا ہے اور میری گفتگو ہر وہم کو ہلا دیتی ہے اور اس کی جڑا کھاڑ دیتی ہے۔سَنَا بَرْقِ الْهَامِي يُنِيرُ لَيَالِيًا وَكَشْفِي كَصُبْحِ لَيْسَ فِيهِ تَكَدُّرُ میرے الہام کی بجلی کی روشنی راتوں کومنور کر دیتی ہے اور میرا کشف صبح کی طرح ( روشن ہے ) اس میں کوئی کدورت نہیں۔وَ إِنَّ كَلَامِي مِثْلَ سَيْفٍ قَاطِعٌ وَإِنَّ بَيَانِي فِي الصُّحُورِ يُؤْثِرُ میرا کلام تلوار کی طرح کاٹ دینے والا ہے اور میرا بیان چٹانوں میں بھی اثر پیدا کر دینے والا ہے۔حَفَرْتُ جِبَالَ النَّفْسِ مِنْ قُوَّةِ الْعُلَى فَصَارَ فُؤَادِي مِثْلَ نَهْرٍ يُفَجَّرُ میں نے نفس کے پہاڑوں کو آسمانی قوت سے کھود ڈالا ہے سومیر ادل نہر کی طرح ہو گیا ہے جو کھود کر جاری کی جاتی ہے۔وَأَدْعِيَتِى عِنْدَ الْوَغَى تَقْتُلُ الْعِدَا فَطُوبَى لِقَلْبٍ يَتَّقِيْهَا وَيَحْذَرُ اور میری دعائیں لڑائی کے وقت دشمنوں کو قتل کرتی ہیں۔پس خوشخبری ہے اس دل کے لئے جو ان سے ڈرے اور بچے۔وَ أَذَانِى قَوْمِي بِسَبٌ وَلَعْنَةٍ وَكَمْ مِنْ لِسَانِ لَا يُضَاهِيهِ خَنْجَرُ اور میری قوم نے مجھے ایذا دی ہے گالی دینے اور لعنت سے۔اور بہت سی زبانیں ایسی ہیں کہ میجر بھی ان کی برابری نہیں کرتا۔إِذَا مَا تَحَامَتْنِي مَشَاهِيرُ مِلَّتِي فَقُلْتُ احْسَأُوُا إِنَّ الْخَفَايَا سَتَظْهَرُ جب مجھ سے اجتناب کیا میری قوم کے سرکردہ لوگوں نے تو میں نے کہا دور ہو جاؤ۔یقین منفی باتیں عنقریب ظاہر ہو جائیں گی۔