القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 110

11۔فَرِيقٌ مِّنَ الْإِخْوَان لَا يُنْكِرُونَنِي وَحِزْبٌ يُكَذِّبُ كُلَّ قَوْلِى وَ يَزْجُرُ بھائیوں میں سے ایک گروہ تو میرا انکار نہیں کرتا اور ایک گروہ میرے ہر قول کو جھٹلاتا اور جھڑکتا ہے۔وَقَدْ زَاحَمُوا فِي كُلِّ اَمْرٍ أَرَدْتُهُ وَكُلِّ يُخَوَفُنِي وَرَبِّي يُبَشِّرُ اور انہوں نے ہر کام میں جس کا میں نے ارادہ کیا روک ڈالی ہے اور ہر ایک مجھے ڈراتا ہے حالانکہ میرا رب مجھے بشارت دے رہا ہے۔فَأَقْسَمْتُ باللهِ الَّذِي جَلَّ شَانُهُ عَلَى أَنَّهُ يُخْزِى عَدُوّى وَ يَشْزِرُ سو میں نے اس اللہ کی قسم کھائی ہے جس کی شان بڑی ہے اس بات پر کہ وہ میرے دشمن کو رسوا کرے گا اور اس کو غضب کی نظر سے دیکھے گا۔وَمَا أَنَا عَنْ عَوْنِ الْمُعِيْنِ بِمُبْعَدٍ إِذَا اللَّيْلُ وَأَرَانِي فَنُورٌ يُنَوِّرُ اور میں مددگار خدا کی مدد سے دور نہیں۔جب رات مجھے ڈھانپتی ہے تو ایک نور مجھے منور کرتارہتا ہے۔وَ قَدْ قَادَنِي رَبِّي إِلَى الرُّشْدِ وَالْهُدَى وَوَقَرَنِي مِنْ عِنْدِهِ فَأَوَقَرُ اور مجھے راہنمائی کر کے میرے رب نے رشد و ہدایت تک پہنچا دیا ہے۔اور اس نے مجھے اپنی جناب سے اعزاز بخشا ہے سو میں عزت پارہا ہوں۔وَ إِنَّ كَرِيمِي يُطْلِقُ الْكَفَّ بِالنَّدَى وَلِى مِنْ عَطَاءِ الرَّبِّ رِزْقٌ يُوَفَّرُ اور میرا کریم خدا سخاوت میں فراخ دست ہے اور مجھے رب کی عطا سے وافر حصہ مل رہا ہے۔وَلَا زَالَ مَمْدُودًا عَلَيَّ ظِلَا لُهُ وَنَعْمَاءُ هُ كَثُرَتْ عَلَيَّ وَ تَكْفُرُ مجھ پر اس کا سایہ ہمیشہ چھا یار ہا ہے اور اس کی نعمت مجھ پر بکثرت ہو رہی ہے اور بڑھ رہی ہے۔وَكَانَ لَكُمْ عَجَبًا بِبَعْثِ مُجَدِدٍ هَلُمَّ انْظُرُوا فِتَنَ الزَّمَانِ وَ فَكَّرُوا کیا ایک مجد د کی بعثت سے تمہیں تعجب ہورہا ہے؟ آ ؤزمانہ کے فتنے دیکھو اورسوچو۔اَمَامَكَ يَا مَغْرُورُ فِتَنٌ مُّحِيْطَةٌ وَاَنْتَ تَسُبُّ الْمُؤْمِنِينَ وَ تَهْجُرُ اے مغرور! تیرے سامنے گھیر لینے والے فتنے موجود ہیں اور تو مومنوں کو گالیاں دے رہا اور بکواس کر رہا ہے۔فَهَذَا عَلَى الْإِسْلَامِ يَوْمُ الْمَصَائِبِ يُكَفَّرُ مِثْلِى وَالرِّيَاضُ حَبَوْكَرُ یہ اسلام پر مصیبتوں کا زمانہ ہے کہ میرے جیسے کی تکفیر کی جارہی ہے حالانکہ باغات ریگستان بن رہے ہیں۔