القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 108

1+A وَيَحْمَدُكَ اللهُ الْوَحِيدُ وَجُنُدُهُ وَيُثْنِي عَلَيْكَ الصُّبْحُ إِذْ هُوَ يَجُشُرُ اور خدائے یکتا تیری تعریف کرتا ہے اور اس کا لشکر بھی۔نیز صبح بھی تیری تعریف کرتی ہے جب وہ طلوع ہوتی ہے۔مَدَحُتُ اِمَامَ الْأَنْبِيَاءِ وَإِنَّهُ لَارُفَعُ مِنْ مَّدْحِي وَأَعْلَى وَ أَكْبَرُ میں نے انبیاء کے امام کی مدح کی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ وہ میری مدح سے بالا اور اعلیٰ اور اکبر ہے۔دَعُوا كُلَّ فَخْرِ لِلنَّبِيِّ مُحَمَّدٍ اَمَامَ جَلَالَةِ شَأْنِهِ الشَّمْسُ أَحْقَرُ ہر فخر کو رہنے دو نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے ہی لئے۔آپ کی جلالتِ شان کے سامنے تو سورج بھی بہت حقیر ہے۔وَصَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا أَيُّهَا الْوَرى وَذَرُوا لَهُ طُرُقَ التَّشَاجُرِ تُوْجَرُوا اور اسے تمام لوگو! اس پر درود و سلام بھیجو اور اس کی خاطر جھگڑے کی راہیں چھوڑ دو کہ اجر پاؤ۔وَ وَاللَّهِ إِنِّي قَدْ تَبِعْتُ مُحَمَّدًا وَفِي كُلِ أَنِ مِنْ سَنَاهُ أُنَوَّرُ اور خدا کی قسم ! یقیناً میں نے پیروی کی ہے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ہر لحظہ آپ کی روشنی سے ہی منور ہورہا ہوں۔وَ فَوَّضَنِي رَبِّي إِلَى رَوُضِ فَيُضِهِ وَإِنِّي بِهِ أَجْنِي الْجَنَى وَ أُنضَّرُ مجھے میرے رب نے آپ کے فیض کے باغوں کے سپرد کر دیا ہے اور یقیناً میں آپ کے ذریعہ ہی پھل چنتا اور تر و تازہ کیا جا تا ہوں۔وَلِدِينِهِ فِي جَذْرِ قَلْبِي لَوْعَةٌ وَإِنَّ بَيَانِي عَنْ جَنَانِي يُخْبِرُ اور آپ کے دین کے لیے میرے دل کی گہرائی میں ایک تڑپ ہے۔اور یقیناً میرا بیان میرے دل کی حالت کی خبر دے رہا ہے۔وَرِثْتُ عُلُوْمَ الْمُصْطَفَى فَاَخَذْتُهَا وَكَيْفَ اَرُدُّ عَطَاءَ رَبِّي وَ أَفْجُرُ میں مصطفے کے علوم کا وارث ہو اسو میں نے ان کو لے لیا اور میں اپنے رب کی عطا کو کیسے رد کروں اور گنہگار بنوں۔وَ كَيْفَ وَلِلْإِسْلَامِ قُمْتُ صَبَابَةً وَأَبْكِي لَهُ لَيْلًا نَّهَارًا وَ أَضْجَرُ یسے سکتا ہے حالانکہ اسلام کی تائید کے لئے میں ازراہ عشق کھڑا ہوں اور اسی کے لیے رات دن روتا ہوں اور کڑھتا ہوں۔وَ عِنْدِي دُمُوعٌ قَدْ طَلَعْنَ الْمَاقِيَا وَعِنْدِي صُرَاخٌ مِثْلَ نَارٍ مُّسَعَرُ اور میرے آنسو آنکھوں کے کونوں سے باہر آگئے اور میری چیخ و پکار بھڑکائی ہوئی آگ کی طرح ہے۔اور یہ ہو۔