القصائد الاحمدیہ — Page 107
1+2 صَبَرْنَا عَلَى ظُلْمِ الْخَلَائِقِ كُلِهَا وَتُبْنَا إِلَى الرَّبِّ الَّذِي هُوَ أَقْدَرُ ہم نے ساری مخلوق کے ظلم پر صبر کیا اور اس رب کی طرف متوجہ ہو گئے جو سب سے زیادہ قدرت رکھتا ہے۔تَرَكْنَا الْقِلَى وَاللَّهُ كَافٍ لِصَادِقِ وَإِنَّ الصُّدُوقَ بِفَضْلِهِ يُتَخَيَّرُ ہم نے بغض و عداوت کو چھوڑ دیا اور اللہ صادق کے لئے کافی ہے اور بے شک صادق اس کے فضل سے مقبول ہوتا ہے۔وَ لَيْسَ الْفَتَى مَنْ يَقْتُلُ النَّاسَ سَيْفَهُ وَلَكِنَّهُ مَنْ يُظْلَمَنَّ وَيَصْبِرُ اور جواں مرد وہ نہیں جس کی تلوار لوگوں کو قتل کرے لیکن جواں مرد وہ ہے جو مظلوم ہوا اور صبر کرے۔ارَى الظُّلُمَ يُبْقِى فِى الْخَرَاطِيْمِ وَسْمَهُ وَأَمَّا عَلَامَاتُ الْأَذَى فَتُغَيَّرُ میں ظلم کو ایسا دیکھتا ہوں کہ وہ ظالموں کی ناکوں پر اپنا نشان چھوڑ جاتا ہے لیکن تکلیفوں کے نشانات ( مظلوم سے ) مٹ جاتے ہیں۔أَتُكْفِرُنِي يَا أَيُّهَا الْمُسْتَعْجِلُ وَأَيَّ عَلَامَاتٍ تَرى إِذْ تُكْفِرُ اے جلد باز ! کیا تو میری تکفیر کرتا ہے اور ( مجھ میں ) کون سی باتیں تو پاتا ہے جب تکفیر کرتا ہے۔وَ إِنَّ اِمَامِي سَيِّدُ الرُّسُلِ أَحْمَدُ رَضِيْنَاهُ مَتْبُوْعًا وَّ رَبِّي يَنْظُرُ یقیناً میرا پیشوا تو رسولوں کا سردار احمدصلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ہم نے اس کو متبوع کے طور پر پسند کر لیا ہے اور میرا رب دیکھ رہا ہے۔وَ لَا شَكَ أَنَّ مُحَمَّدًا شَمْسُ الْهُدَى إِلَيْهِ رَغِبْنَا مُؤْمِنِينَ فَنَشْكُرُ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کے آفتاب ہیں ہم نے اس کی طرف مومن ہو کر رغبت کی پس ہم شکر کرتے ہیں۔لَهُ دَرَجَاتٌ فَوْقَ كُلَّ مَدَارِجِ لَهُ لَمَعَاتٌ لَا يَلِيْهَا تَصَرُّرُ آپ کے درجات تمام درجات سے بلند تر ہیں۔آپ کی ایسی تجلیات ہیں کہ وہ تصور میں نہیں آ سکتیں۔أَ بَعْدَ نَبِيِّ اللَّهِ شَيْءٌ يَرُوقُنِي أَبَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ وَجُهُ مُنَوَّرُ جة کیا نبی اللہ کے بعد کوئی چیز مجھے اچھی لگ سکتی ہے کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور منور چہرہ بھی ہے؟ عَلَيْكَ سَلَامُ اللهِ يَامَرُجِعَ الْوَرى لِكُلّ ظَلَامٍ نُورُ وَجْهِكَ نَيْرُ تجھ پر اللہ کا سلام ہے اے مرجع خلائق !۔ہر تاریکی کے لئے تیرے چہرے کا نور ایک آفتاب ہے۔