القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 102

۱۰۲ فَخُذُ بِيَدِى يَارَتِ فِي كُلِّ مَوْطِنٍ وَأَيَّدْ غَرِيبًا يُلْعَنَنُ وَيُكَفَّرُ اے میرے رب ! ہر معرکہ میں میرا ہاتھ پکڑ اور اس بے یارومددگار کی تائید فرما جولعت اور تکفیر کیا جار ہا ہے۔آتَيْتُكَ مِسْكِيْنًا وَّ عَوْنُكَ أَعْظَمُ وَجِئْتُكَ عَطْشَانًا وَّ بَحْرُكَ أَزْخَرُ مسکین ہو کر تیرے حضور آیا ہوں اور تیری مددسب سے بڑی ہے اور میں پیاسا ہو کر تیرے پاس آیا ہوں اور تیرا سمندر بہت موجزن ہے۔قَدِ انْدَرَسَتْ آثَارُ دِيْنِ مُحَمَّدٍ فَأَشْكُوا إِلَيْكَ وَ أَنْتَ تَبْنِي وَ تَعْمُرُ دین محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نشان مٹ چکے ہیں۔پس میں تیرے حضور شکایت کرتا ہوں، تو ہی تعمیر کرتا اور آبادکرتا ہے۔أرى كُلَّ يَوْمٍ فِتْنَةٌ قَدْمُدِّدَتْ وَمِتْنَا وَ أَمْوَاتُ الْأَعَادِي بُعْثِرُوا میں میں ہر روز ایک فتنہ دیکھتا ہوں جو پھیلایا گیا ہے اور ہم تو مر گئے ہیں اور دشمنوں کے مُردے جی اٹھے ہیں۔وَقَدْ أَزْمَعُوا أَنْ يُزْعِجُوا سُبُلَ الْهُدَى وَكَمْ مِنْ أَرَاذِلَ مِنْ شَقَاهُمْ تَنَصَّرُوا اور انہوں نے عزم کر لیا ہے کہ ہدایت کے راستوں کو جڑ سے اکھیڑ دیں اور بہت سے کمینے اپنی بدبختی سے عیسائی ہو گئے ہیں۔أرى كُلَّ مَحْجُوبِ لِدُنْيَاهُ بَاكِيًا فَمَنْ ذَا الَّذِي يَبْكِي لِدِينِ يُحَقَّرُ میں دین سے ہر بے بہرہ کو اپنی دنیا کے لئے رونے والا پاتا ہوں۔پس کون ہے وہ جو روئے اس دین کے لئے جس کی تحقیر کی جارہی ہے۔فَيَا نَاصِرَ الْإِسْلَامِ يَارَبَّ أَحْمَدَا اَعْتُنِي بِتَائِيدٍ فَإِنِّي مُدْخَرُ اے اسلام کے ناصر ! اے احمد کے رب! تائید کے ساتھ میری فریاد رسی کر۔میں تو ذلیل کیا گیا ہوں۔ا يَا رَبَّ مَنْ أَعْطَيْتَهُ كُلَّ دَرَجَةٍ وَشَانَّا بِرُؤْيَتِهِ الْوَرى تَتَحَيَّرُ اے اس رسول کے رب جسے تو نے ہر درجہ دیا ہے اور ایسی شان جسے دیکھ کر مخلوق حیران ہو رہی ہے۔وَ مَا زِلْتَ ذَا لُطْفٍ وَّعَطْفٍ وَّ رَحْمَةٍ وَمَا كُنتُ مَحْرُوْمًا وَّكُنتُ أَوَفَّرُ اور تو ہمیشہ لطف مہربانی اور رحمت کرنے والا رہا ہے اور میں کبھی بھی محروم نہیں رہا اور عزت ہی پا تا رہا ہوں۔فَلَا تَجْعَلَنِى مُضْغَةً لِمُحَارِبِي وَأَنْتَ وَحِيْـدِي كُلَّ خَطَا تَغْفِرُ سو مجھے لقمہ نہ بنا دینا مجھ سے لڑنے والے کا تو میر ایگا نہ خدا ہے۔تو ہر ایک خطا بخش دیتا ہے۔