القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 97

۹۷ فَإِنَّ هَلَاكَ النَّاسِ عِندَ أُولِى النُّهَى أَحَبُّ وَ أَوْلَى مِنْ ضَلَالٍ يُخَسِرُ کیونکہ لوگوں کا ہلاک ہو جانا عقلمندوں کے نزدیک زیادہ پسندیدہ اور بہتر ہے گھاٹے میں ڈالنے والی گمراہی سے۔عَلَى جُدُرِ الْإِسْلَامِ نَزَلَتْ حَوَادِتْ وَ ذَاكَ بِسَيْنَاتٍ تُدَاعُ وَ تُنْشَرُ اسلام کی دیواروں پر حوادث نازل ہو چکے ہیں اور یہ ان برائیوں کی وجہ سے ہیں جو عام ہورہی ہیں اور پھیلائی جارہی ہیں۔وَ فِي كُلِّ طَرْفِ نَارُ فِتَنِ تَأَبَّجَتْ وَفِي كُلِّ ذَنْبٍ قَدْ تَرَاءَى التَّقَعُرُ ہر طرف فتنوں کی آگ بھڑک رہی ہے اور ہر گناہ میں گہرائی دکھائی دے رہی ہے۔وَ مِنْ كُلّ جِهَةٍ كُلُّ ذِئْبٍ وَنَمْرَةٍ يَعِيْتُ بِوَثْبٍ وَّ الْعَقَارِبُ تَأْبَرُ اور ہرطرف سے ہر بھیڑیا اور چیتا حملے کے ذریعہ تباہی ڈال رہا ہے اور بچھو کاٹ رہے ہیں۔وَعَيْنُ هِدَايَاتِ الْكِتَابِ تَكَدَّرَتْ بِهَا الْعِيْنُ وَالْأَرَامُ يَمْشِي وَيَعْبُرُ اور کتاب اللہ کی ہدایتوں کا چشمہ گدلا ہو گیا ہے۔اس چشمے میں جنگلی گائیں اور ہرن چل اور گذر رہے ہیں۔تَرَاءَتْ غَوَايَاتٌ كَرِيحٍ عَاصِفٍ وَأَرْخَى سُدُولَ الْغَيِّ لَيْلٌ مُّكَذِرُ گمراہیاں تند ہوا کی طرح نظر آ رہی ہیں اور تاریکی پیدا کرنے والی رات نے گمراہی کے پردے لٹکا دیئے ہیں۔وَلِلدِّينِ أَطْلَالٌ اَرَاهَا كَلَاهِفٍ وَدَمْعِى بِذِكْرِ قُصُورِهِ يَتَحَدَّرُ اور دین کے صرف کھنڈرات باقی رہ گئے ہیں جنہیں میں افسردہ شخص کی طرح دیکھ رہا ہوں ار میرے آنسو اس کے محلات کی یاد میں بہہ رہے ہیں۔أَرَى الْعَصْرَ مِنْ نَّوْمِ الْبَطَالَةِ نَائِمًا وَكُلُّ جَهُولٍ فِي الْهَوَى يَتَبَخْتَـرُ میں زمانہ کو باطل پرستی کی نیند میں سویا ہوا دیکھ رہا ہوں اور ہر جاہل اپنی خواہشوں میں اترا رہا ہے۔وَ لَيْلًا كَعَيْنِ الظَّبي غَابَتْ نُجُومُهُ وَ دَاءً لِشِدَّتِهِ عَنِ الْمَوْتِ يُخْبِرُ ر میں ہرن کی آنکھیں یا رات کو دیکھ رہا ہوں کہ اس کے ستارے غائب ہو گئے ہیں۔اوراس پیار کو دیکھ رہا ہوں جواپنی شدت کی وجہ سے موت کی خبر دے رہی ہے۔نَسُوا نَهْجَ دِينِ اللَّهِ حُبُنًا وَّ غَفَلَةً وَأَفْعَالُهُمْ بَغَى وَفِسْقٌ وَّ مَيْسِرُ انہوں نے دینِ الہی کا راستہ خبث اور غفلت سے بھلا دیا ہے اور ان کے افعال بغاوت، فسق اور جوا بازی ہیں۔