القصائد الاحمدیہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 390

القصائد الاحمدیہ — Page 96

۹۶ 11 قَصِيدَةٌ لَطِيفَةٌ لِمُوَّلِفِ هَذِهِ الرِّسَالَةِ فِي بَيَان مَفَاسِدِ الزَّمَانِ وَضُرُورَةِ رَجُلٍ يَهْدِي إِلَى طُرُقِ الرَّحْمَنِ وَنَعْتِ سَيّدِ الْأَنْبِيَاءِ وَفَخْرِ الْإِنْسِ وَالْجَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اس رسالہ کے مؤلف کا لطیف قصیدہ جو زمانہ کے مفاسد خدائے رحمان کی راہوں کی طرف رہنمائی کرنے والے ایک شخص کی ضرورت اور حضرت سید الانبیاء فخر انس و جان صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح کے بیان میں ہے۔دُمُوعِى تَفِيضُ بِذِكْرِ فِتَنِ أَنْظُرُ وَإِنِّي أَرَى فِتَنا كَقَطْرِ يَّمْطُرُ ان فتنوں کے ذکر سے جنہیں میں دیکھ رہا ہوں، میرے آنسو بہو رہے ہیںاور میں دیکھ رہا ہوں کہ فتنے اس بارش کی طرح ہیں جو برس رہی ہو۔تَهُبُّ رِيَاحٌ عَاصِفَاتٌ مُبِيْدَةٌ وَقَلَّ صَلَاحُ النَّاسِ وَ الْغَيُّ يَكْثُرُ چند اور مہلک ہوائیں چل رہی ہیں۔لوگوں کی نیکی کم ہوگئی ہے اور گمراہی بڑھ رہی ہے۔وَ قَدْ زُلْزِلَتْ اَرْضُ الْهُدَى زِلْزَالَهَا وَقَدْ كُذِرَتْ عَيْنُ التَّقَى وَ تَكَدَّرُ اور ہدایت کی زمین پر سخت زلزلہ آ گیا ہے اور تقویٰ کا چشمہ مکت رہو گیا ہے اور گدلا ہوتا جارہا ہے۔وَ مَا كَانَ صَرْخٌ يَصْعَدَنَّ إِلَى الْعُلى وَمَا مِنْ دُعَاءٍ يُسْمَعَنَّ وَيُنْصَرُ اور کوئی چیخ نہیں جو بلندی (آسمانوں) کی طرف چڑھتی ہو اور نہ کوئی دعاسنی جاتی ہے اور نہ نصرت پاتی ہے۔فَلَمَّا طَغَى الْفِسْقُ الْمُبِيدُ بِسَيْلِهِ تَمَنَّيْتُ لَوْ كَانَ الْوَبَاءُ الْمُتَبرُ جب طغیانی پر آ گیا مہلک فستق اپنے سیلاب کے ساتھ تو میں نے آرزو کی۔کاش تباہ گن و با نازل ) ہوتی۔