القصائد الاحمدیہ — Page 93
۹۳ وَ لَيْسَ التَّقَى فِى الدِّيْنِ إِلَّا اتِّبَاعُهُ وَكُلُّ بَعِيدٍ مِنْ هُدَاهُ يُقَرَّبُ اور دین میں تقویٰ صرف آپ کی اتباع کا نام ہے اور ہر وہ جو ہدایت سے دور ہے آپ کی راہنمائی سے ہی (خدا کا ) قرب پاتا ہے۔وَلَوْ كَانَ مَاءٌ مِّثْلَ عَسُلِ بِطَعْمِهِ فَوَاللَّهِ بَحْرُ الْمُصْطَفَى مِنْهُ أَعْذَبُ اور اگر پانی اپنے مزے میں شہد کی طرح بھی (میٹھا) ہو تو خدا کی قسم ! مصطفے کا سمندر تو اس سے بھی زیادہ شیریں ہے۔مَدَحْتُكَ يَا مَحْبُوبُ مِنْ صِدْقٍ مُهْجَتِى وَلَوْلَاكَ مَا كُنَّا إِلَى الشَّعْرِ نَرْغَبُ اے محبوب! میں نے اپنے صدق دل سے تیری مدح کی ہے اور اگر تو نہ ہوتا تو ہم شعر کی طرف راغب نہ ہوتے۔وَإِنَّا لَجِتُنَا فِي عَطَائِكَ رَاغِبًا وَمَنْ جَاءَ بَابَكَ سَائِلًا لَّا يُقَرَّبُ اور ہم تیری عطا میں رغبت کرتے ہوئے آئے ہیں اور جو تیرے دروازے پر سائل بن کر آئے وہ ملامت نہیں کیا جا تا محروم نہیں رہتا)۔وَ وَاللَّهِ حُبُّكَ لِلنَّجَاةِ لِمُؤْمِنٍ دَلِيلٌ وَّ عُنُوَانٌ فَكَيْفَ نُخَيَّبُ اور خدا کی قسم ! تیری محبت مومن کی نجات کے لئے ایک راہنما اور علامت ہے تو پھر ہم کس طرح نامراد رہ سکتے ہیں۔وَأَثَرْتُ حُبَّكَ بَعْدَ حُبِّ مُهَيْمِنِى وَتُصْبِي جَنَانِي مِنْ سَنَاكَ وَ تَجْلِبُ اور (اے نبی) میں نے تیری محب کواپنے دئے یمن کی جب کے بعد تیار کرلیا ہےاور اے نبی تومیرے دل کاپنے نو کے ذریعہ گرویدہ اور جذب کرہا ہے۔ونَسْتَصْغِرُ الدُّنْيَا وَخَضْرَانَهَا مَعا فَلَا نَجْتَنِي مِنْهَا وَ لَا نُسْتَخْلَبُ اور ہم دنیا اور اس کی رونق وخوبصورتی کو ایک ساتھ ہی قیر سمجھتے ہیں وہم اس کا کوئی پھل نہیں توڑتے اور نہ ہی اس کے کانوں سے مجروح ہونا چاہتے ہیں۔اَلَا أَيُّهَا الشَّيْحُ الَّذِي أَكْفَرُتَنِي وَإِنِّي بِزَعْمِكَ كَافِرٌ ثُمَّ هَيْدَبُ سُن لے اے شیخ کہ جس نے مجھے کا فر کہا ہے! اور میں تیرے خیال میں کا فر بھی ہوں پھر عاجز بھی۔فَتِلْكَ بِعَون اللهِ مِنِى قَصِيدَةٌ مُحَبَّرَةٌ وَّ نَظِيْرَهُ مِنْكَ أَطْلُبُ سو اللہ کی مدد سے میری طرف سے یہ قصیدہ لکھا ہوا موجود ہے اور میں اس نظم کی نظیر تجھ سے طلب کرتا ہوں۔وَهَذِي تَلَتْ قَدْ نَظَمُنَا وَهِدْيَةٌ بِبَحْرٍ خَفِيفِ لِلْأَحِبَّاءِ أَنْسَبُ اور یہ تین قصیدے ہم نے نظم کئے ہیں اور یہ لوگوں کے لئے راہنمائی ہیں۔ہلکے پھلکے بر میں جو دوستوں کے لئے بہت مناسب حال ہے۔