القصائد الاحمدیہ — Page 92
۹۲ يُحِبُّ التَّذَلُّلَ وَالتَّوَاضُعَ رَبُّنَا وَ مَنْ يَنْزِلَـنُ عَنْ فَرُسِ كِبْرٍ يَّرْكَبُ ہمارا رب تو عاجزی اور انکساری کو پسند کرتا ہے۔جو تکبر کے گھوڑے سے نیچے اتر آئے وہی شاہ سوار بن جاتا ہے۔وَلِلصَّابِرِينَ يُوَسِعُ اللَّهُ رَحْمَةَ وَيَفْتَحُ أَبْوَابَ الْجَدَا وَ يُقَرِّبُ اور صبر کرنے والوں کے لئے خدا اپنے رحم کو وسیع کرتا ہے اور عطا کے دروازے کھول دیتا اور قرب بخشتا ہے۔تَعَرَّفْتُهُ حَتَّى أَتَتْنِي مَعَارِفٌ وَإِنَّ الْفَتَى فِي سَؤْلِهِ لَا يَلْعَبُ میں نے پے در پے اس سے معرفت مانگی یہاں تک کہ میرے پاس معارف آگے اور یقینا با ہمت انسان سوال کرنے میں نہیں تھکتا۔رَأَيْنَاهُ مِنْ نُّورِ النَّبِيِّ الْمُصْطَفَى وَلَوْلَاهُ مَا تُبْنَا وَلَا نَتَقَرَّبُ ہم نے اس (خدا) کو نبی مصطفی اللہ کے نور کے ذریعہ پالیا۔اگر وہ ہی نہ ہوتا تو نہ ہم رجوع الی اللہ ) کرتے اور نہ ہم ( خدا کے ) مقرب بنتے۔لَهُ دَرَجَاتٌ فِي الْمَحَبَّةِ تَامَّةٌ لَهُ لَمَعَاتٌ زَالَ مِنْهَا الْغَيْهَبُ اس نبی کو محبت الہی میں کامل درجات حاصل ہیں۔اس کو ایسی شعاعیں ملی ہیں جن کے ذریعہ تاریکی دور ہوگئی ہے۔ذُكَاءٌ مُّبِيرٌ قَدْ آنَارَ قُلُوبَنَا وَلَهُ إِلَى يَوْمِ النُّشُورِ مُعَقِّبُ وہ روشنی کرنے والا آ فتاب ہے اس نے ہمارے دلوں کو روشن کر دیا ہے اور اسکا قیامت کے دن تک کوئی نہ کوئی جانشین ہوتار ہیگا۔وَ فِي اللَّيْلِ بَعْدَ الشَّمْسِ قَمَرٌ مُّنَوَّرٌ كَمَا فِي الزَّمَانِ نُشَاهِدَنُ وَ نُجَرِّبُ اور رات کو سورج کے بعد روشن چاند ہوتا ہے جیسا کہ ہم زمانہ میں مشاہدہ کرتے اور تجربہ رکھتے ہیں۔وَلِلَّهِ الطَافٌ عَلَى مَنْ اَحَبَّهُ فَوَابِلُهُ فِي كُلِّ قَرْنٍ يَسْكَبُ اور خدا کی اس شخص پر مہربانیاں ہیں جو آپ سے محبت کرے پس آپ کی موسلا دھار بارش ہر صدی میں برسا کرتی ہے۔وَ شِيْمَتُهُ قَدْ أُفَرِدَتْ فِي فَضَائِلِ وَقَدْ فَاقَ أَحْلَامَ الْوَرى أَ فَتَعْجَبُ اور آپ کا خلق فضائل میں یکتا ہوگیا ایسے حال میں کہ آپ (اپنے اخلاق میں مخلوق کی عقلوں (کے اندازے ) پر بھی فوقیت لے گئے۔پس کیا تو حیران ہور ہا ہے۔وَرَعَى وأتَى الصَّحْبَ لَبَنَّا سَائِعًا وَلَيْسَ كَرَاعِي الْغَنَمِ يَرْعَى وَ يَحْلِبُ وہ چوپان بنا اور اس نے اپنے ساتھیوں کو خوشگوار شیریں دودھ عطا کیا۔وہ بکریوں کے چوپان کی طرح نہیں جو بکریاں چرا تا اور دودھ دھو لیتا ہے۔